جاپان کی جانب سے "نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی ثابت قدمی کےساتھ مخالفت کی جائے، چینی میڈیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) جاپانی حکومت نے کابینہ کے فیصلے کے ذریعے "دفاعی سازوسامان کی منتقلی کے تین اصول” اور اس سے متعلق رہنما ہدایات میں ترمیم مکمل کر لی ہے، جس کے تحت اصولی طور پر مہلک ہتھیاروں کی بیرونِ ملک برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ جاپان کی سیکیورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس کی جاپانی عوام سمیت عالمی برادری نے شدید مخالفت کی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان ایک شکست خوردہ ملک تھا۔ قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ، اور جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویزجیسی بین الاقوامی قانون کی حیثیت رکھنے والی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ جاپان کوعسکریت کی جانب دوبارہ نہیں جانا چاہیے۔

جنگ کے بعد، جاپان نے "ہتھیاروں کی برآمدات کے تین اصول” متعارف کرائے تھے، جس میں ہتھیاروں کی برآمد پر سختی سے پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم، جاپانی حکومت نے بار بار ترامیم کیں تاکہ متعلقہ برآمدی پابندیوں میں مسلسل نرمی کی جا سکے۔ سانائے تاکائیچی کے اقتدار میں آنے کے بعد، جاپان کی "دوبارہ عسکریت پسندی” میں اور بھی تیزی آئی۔ سویڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں جاپان کی پانچ بڑی دفاعی کمپنیوں کی مجموعی فروخت، بشمول مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز اور کاواساکی ہیوی انڈسٹریز، 13.3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جوسال بہ سال 40 فیصد کا اضافہ تھا۔

” تائیوان کا معاملہ جاپان کا معاملہ ہے” جیسے کھلے دعوے سے لے کر آبنائے تائیوان سے گزرنے کے لئے سیلف ڈیفنس فورس کے ڈسٹرائیر بھیجنے تک، سانائے تاکائیچی کی طرف سے بطور وزیر اعظم یاسوکونی وار شرئن پر رسمی نذرانہ پیش کرنے سے لے کر مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی اٹھانے تک.. جاپان جو ماضی میں خطے اور دنیا کو سنگین نقصانات پہنچا چکا ہے، اب "دوبارہ عسکریت پسندی” کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص جاپان کے ہمسایہ ممالک کو نہ صرف انتہائی چوکس رہنا چاہیے بلکہ جاپان کی "نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی ثابت قدمی کے ساتھ مخالفت کرنے کے لیے باہمی تعاون کرنا چاہیے۔ جاپان کو اپنی جنگی مشین کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

Comments (0)
Add Comment