مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے اثرات افریقی ممالک تک پھیل چکے ہیں ، چینی صدر

بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں سرکاری دورے پر آئے ہوئے موزمبیق کے صدر ڈینئل چاپو کے ساتھ بات چیت کی ۔منگل کے روز دونوں سربراہان مملکت نے دوطرفہ تعلقات کو نئے عہد میں چین-موزمبیق ہم نصیب معاشرے تک پہنچانے پر اتفاق کیا۔شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور موزمبیق ایک دوسرے پر اعتماد اور باہمی مدد فراہم کرتے آئے ہیں، اور یہ چین افریقہ دوستی اور جنوب جنوب تعاون کا نمونہ بن گئے ہیں۔ دونوں فریقوں کو اپنی عمدہ روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی مفادات اور اہم خدشات سے جڑے مسائل پر ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھنی چاہیے اور ہر سطح پر تبادلوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

اس سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کا سال ہے۔ چین موزمبیق کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں کی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کی اعلیٰ معیاری اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ شی جن پھںگ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے اثرات افریقی ممالک تک پھیل چکے ہیں اور چین اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے افریقی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے ، افریقی ممالک کی ترقی میں مدد کرنے اور ہمہ موسمی چین-افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔صدر چاپو نے کہا کہ وہ اس سال چین کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے افریقی رہنما ہونے پر خوش ہیں۔ چین موزمبیق کا سچا دوست ہے۔

موزمبیق غیر مشروط طور پر ایک چین کے اصول پر کاربند ہے اور قومی وحدت کی تکمیل کے لئے چین کی حمایت کرتا ہے۔ موزمبیق باہمی احترام اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر یکجہتی اور دوستی کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ کام کرنے اور مشترکہ طور پر نئے عہد میں چین-موزمبیق ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔بات چیت کے بعد، دونوں سربراہان مملکت نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو پر عمل درآمد، اقتصادی اور تجارتی تعاون، ثقافتی و افرادی تبادلے، طب اور صحت عامہ، اور نیوزمیڈیا جیسے شعبوں میں 20 سے زائد تعاون کی دستاویزات پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔ فریقین نے نئے عہد میں چین-موزمبیق ہم نصیب معاشرے کی تعمیر پر مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔

Comments (0)
Add Comment