بیجنگ (ویب ڈیسک) کچھ مغربی میڈیا کی جانب سے چین کےسنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں اقلیتی قومیتوں کے حوالے سے ‘ جبری مشقت ‘ اور ‘ جبری نقل مکانی ” کی رپورٹس پر،کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ یونائیٹڈ فرنٹ ورک کے نائب سربراہ اور چین کےقومی کمیشن برائے قومیتی امور کے سربراہ چھن روئی فنگ نے ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں کہا کہ چین کے قومی یکجہتی اور ترقی کے فروغ کے قانون کی دفعہ 25 واضح طور پر اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ عوام کو علاقائی سرحدوں سے باہر ملازمت اور کاروبار کرنے کے جائز حقوق حاصل ہوں اور ہمیشہ مکمل رضا مندی، دو طرفہ انتخاب، قانونی مطابقت اور آزادی آمد و رفت کے بنیادی اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔
سنکیانگ میں افرادی قوت کی منتقلی اور روزگار تمام قومیتی گروہوں کے افراد کی رضامندی کی بنیاد پر عمل میں لایا جاتا ہے، اور "جبری نقل مکانی” اور "جبری مشقت” کے نام نہاد دعویٰ کا کوئی وجود نہیں اور یہ بالکل بے بنیاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ سنکیانگ ملازمت کو ترجیح دینے کی حکمت عملی پر قائم ہے اور اعلی معیار کےمکمل روزگار کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں مختلف اقدامات کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھائے گئے، شہری علاقوں میں کل ملازمت میں 23 لاکھ 92 ہزار کا اضافہ ہوا، زرعی محنت کشوں کی باہر کام کرنے کی تعداد ایک کروڑ 16 لاکھ رہی، اور شہری و دیہی علاقوں میں فی کس قابل خرچ آمدنی سالانہ اوسطاً 5.3 فیصد اور 8.1 فیصد بڑھی ہے ۔
