بیجنگ (ویب ڈیسک) اطلاعات کے مطابق جاپان نے حال ہی میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کے حامل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعیناتی شروع کی ہے۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے اور یہ پڑوسی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ چین کی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل جیانگ بن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی دائیں بازو کی قوتوں نے واضح طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جارحانہ ہتھیار نصب کیے ہیں، جن کی رینج جاپانی سرزمین کی حدود سے کہیں زیادہ ہے، اور یوں جاپان نے اپنا ” صرف دفاعی حکمت عملی” کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی "نئی طرز کی عسکریت پسندی” صرف ایک خطرناک علامت نہیں بلکہ ایک کھلا حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم جاپان کو سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ عسکریت پسندی کا پرانا راستہ جاپان کے لئے خود کو تباہ کرنے کا راستہ ہے۔ اگر جاپان طاقت کے ذریعے چین کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتا ہے، تو اسے شدید دھچکا لگے گا اور مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی میکانزم کے 16 ماہرین نے ان دنوں ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کی، جس میں جاپان کی جانب سے ” کمفرٹ ویمن” کا شکار ہونے والی خواتین کو سچائی، انصاف اور معاوضے کے حصول کے حق سے محروم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ باضابطہ معافی مانگے، مکمل معاوضہ فراہم کرے اور نصابی کتب میں متعلقہ تاریخی ریکارڈ کو درست کرے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے 11 تاریخ کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جاپانی عسکریت پسندی کی جانب سے ایک سنگین تاریخی جرم ہے، اور اس کا ثبوت ناقابل تردید ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میکانزم نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری کی جانب سے عدل و انصاف کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہم جاپان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہرائی سے خوداحتسابی کرے اور ” کمفرٹ ویمن” کی جبری بھرتی جیسے تاریخی مسائل کو ایماندارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں حل کرے۔