بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے فلپائن کی وزیر خارجہ ماریہ تھریسا لازارو کی دعوت پر ان سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور فلپائن کے موجودہ تعلقات کو بدنیتی پر مبنی مداخلت کا سامنا ہے۔ فلپائن کو چاہیے کہ وہ متعلقہ اہلکاروں پر اپنا کنٹرول مضبوط بنائے اور چین سے متعلق اپنی پالیسی پر ایک واضح اور متفقہ مؤقف اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور قومی وحدت کے حصول کے لیے چین کا عزم غیر متزلزل ہے۔ فلپائن کو ایک چین کی پالیسی پر عمل درآمد کرنا چاہیے اور سمندری امور پر اپنے قول و فعل میں احتیاط برتنی چاہیے۔ماریہ تھریسا لازارو نے کہا کہ فلپائن چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مستحکم اور قابلِ پیش گوئی تعلقات کی ترقی کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن ایک چین کی پالیسی پر کاربند ہے اور سمندری امور سے متعلق مسائل کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مناسب طور پر حل کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔دونوں فریقوں نے چین اور فلپائن کے تعلقات کو بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے حوالے سے بنیادی اتفاقِ رائے حاصل کیا۔ اس ضمن میں تین نکات پر اتفاق کیا گیا۔ پہلا ، صحت مند اور مستحکم دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے سفارتی مکالمے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ دوسرا، اندرونی اور بیرونی سطح پر تعلقات میں خلل ڈالنے والے تمام عوامل کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور دونوں ممالک کی سفارتی کوششوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی اشتعال انگیزی اور نقصان پہنچانے والے اقدامات کی مخالفت کی جائے گی۔ تیسرا، دونوں فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختلافات کا مناسب انتظام کریں گے، صورتحال کو مستحکم رکھیں گے اور باہمی مفادات کے مشترکہ دائرے کو وسعت دینے کی کوشش کریں گے۔دونوں وزرائے خارجہ نے فلپائن میں منعقد ہونے والے مشرقی ایشیا تعاون کے رہنماؤں کے اجلاس اور اس کے بعد چین کے شہر شینزن میں ہونے والے اپیک کے غیر رسمی رہنماؤں کے اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔