بیجنگ (ویب ڈیسک) چند روز قبل مجھے اپنے اہل خانہ کے ساتھ علاج کے لئے ہسپتال جانا پڑا جہاں میں نے دیکھا کہ چین میں اب اپنے علاقے سے باہر علاج کرانا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔”اپنے علاقے سے باہر علاج "سے مراد یہ ہے کہ ہیلتھ انشورنس کا حامل کوئی شخص اپنے رجسٹرڈ علاقے سے باہر کسی اور علاقے میں علاج کروائے ۔ پہلے وقتوں میں یہ عام لوگوں کے لیے صحت و علاج کے حوالے سے بڑا مسئلہ تھا ۔ کاؤنٹی سطح کے شہروں اور دیہات کے لوگوں کو جب کسی پیچیدہ بیماری کا سامنا ہوتا تھا، تو انہیں اکثر علاج کے لیے شنگھائی یا بیجنگ جیسے بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ سفر طویل ہوتا تھا ، علاج پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے ” ری امبرسمنٹ ” کی شرح کم ہوتی تھی اور ہسپتال میں رجسٹریشن بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔چند سال پہلے، میرے خاندان کے ایک فرد کو ایک سنگین بیماری لاحق ہوئی تو تشخیص کے بعد انہیں علاج کے لیے بیجنگ آنا پڑا تھا۔
اس وقت دوسرے مقام پر علاج کی رجسٹریشن کروانے کے لیے مجھے اپنے آبائی شہر میں موجود رشتہ دار کی مدد لینا پڑی ، جنہوں نے مقامی میڈیکل انشورنس کے دفتر جا کر دستاویزات جمع کروائیں ۔ لیکن اس بار، میں نے جمعہ کے روز موبائل ایپ کے ذریعے درکار دستاویزات اپ لوڈ کیں اور پیر کی صبح ہی رجسٹریشن منظور ہو گئی۔ منظوری کے بعد، مزکورہ بیمار شخص کا میڈیکل انشورنس کارڈ فوراً ہی بیجنگ میں براہِ راست بل ادا کرنے کے قابل ہو گیا۔ اس تیز رفتار عمل نے مجھے بہت متاثر کیا۔ان تبدیلیوں کے پیچھےوہ کوششیں ہیں جو چین کے ہیلتھ انشورنس کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے اور صوبائی سرحدوں کے پار براہِ راست ادائیگی کے نیٹ ورک کو ملک گیر سطح پر وسعت دینے کے لیے کی گئی ہیں ۔ماضی میں، مریضوں کو پہلے اپنی جیب سے تمام اخراجات ادا کرنے پڑتے تھے اور پھر رجسٹرڈ علاقے میں واپس جا کر ری امبرسمنٹ کے لیے درخواست دینا پڑتی تھی، لیکن اب دوسرے مقام پر علاج کرانے کے لیے مخصوص رجسٹریشن کی منظوری کے بعد، علاج کے دوران ہسپتال میں براہِ راست اپنے ہیلتھ انشورنس کارڈ سے بل ادا کیا جا سکتا ہے، جس سے ری امبرسمنٹ کے عمل کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا ،اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا نہیں کر نے پڑتے اور دفاتر کے چکر بھی نہیں کاٹنے پڑتے ۔
اعداد و شمار کے مطابق، "چودہویں پانچ سالہ منصوبہ” کے دوران چین میں اپنے رہائیشی مقامات سے ہٹ کر دوسرے مقامات پر کرائے گئے علاج کی کل تعداد 1.330 ارب رہی، جن کے کل اخراجات 3295.652 ارب یوآن تھے ۔ آج ملک بھر میں ہیلتھ انشورنس کارڈ سے ہسپتال میں داخلے کے اخراجات (inpatient costs )کی صوبائی سرحدوں کے پار براہِ راست ادائیگی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سنہ 2025 میں ہیلتھ انشورنس کی دوسرے مقامات پر براہِ راست ادائیگی کرنے والوں کی تعداد 308 ملین رہی، جن سے مریضوں کی جیب سے ادائیگی کا بوجھ 207.506 ارب یوآن کم ہوا۔لوگ علاج کے لیے بڑے شہروں کی جانب جاتے ہیں،جس کی بنیادی وجہ کاؤنٹی اور دیہات کی سطح پر طبی وسائل کی کمی اور شہر ی و دیہی علاقوں میں طبی خدمات کے معیار میں عدم توازن ہوتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، چین طب اور صحت عامہ کی خدمات کے نظام کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے اور نچلی سطح پر طبی سہولیات کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس وقت چین دنیا کا سب سے بڑا طب اور صحت عامہ کا نظام قائم کر چکا ہے۔
سنہ 2016 سے 2025 تک، ملک بھر میں بنیادی سطح کے طبی اداروں کی تعداد 926,500 سے بڑھ کر 1,056,500 ہو گئی ہے، اور بنیادی سطح کے طبی عملے کی تعداد 3.683 ملین سے بڑھ کر 5.456 ملین ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مختلف سطح کے طبی اداروں کے وسائل کے انضمام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، 90 فیصد سے زائدکاؤنٹی لیول کی میڈیکل کمیونٹیز میں اعلیٰ سطح کے ہسپتالوں کے طبی عملے کی تعیناتی ہو رہی ہے، جن کی کل تعداد 70,000 سے زائد ہے، کاؤنٹی سطح کے ہسپتالوں نے بڑے شہروں کے ہسپتالوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جس کے تحت مریضوں کو گرین چینل کے ذریعے اعلیٰ سطح کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے، اور بڑے ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں کو مقامی ہسپتال بلا کر سرجری بھی کروائی جا سکتی ہے۔دوسرے مقامات پر علاج کے عمل میں، ہیلتھ انشورنس کے کاغذات سے لے کر ٹیسٹ رپورٹس تک، ڈیٹا کی رکاوٹوں کو توڑنا انتہائی اہم ہے۔ چند سال پہلے جب میں اپنے مریض کے ساتھ ہسپتال گیا تھا، تو مجھے کاؤنٹی ہسپتال کی میڈیکل فلمز پرنٹ کروا کر ساتھ لے جانا پڑی تھیں، اور کچھ ہسپتالوں میں تو دوبارہ وہی ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن اب، موبائل فون پر ہی ڈاکٹر آپ کی میڈیکل امیجز دیکھ سکتا ہے ،چاہے وہ کسی اور ہسپتال کی ہوں یا کسی اور شہر کی ۔
"پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ” میں واضح طور پر تمام صحت عامہ کے شعبوں کو زیادہ اسمارٹ بنانے پر زور دیا گیا ، جس کا مطلب ہے کہ ڈیٹا کی رکاوٹوں کو توڑا جائے اور معلومات کی باہمی رسائی اور اشتراک کو یقینی بنایا جائے۔ بیجنگ کی مثال لیں تو، فی الحال شہر بھر کے 200 سے زائد سیکنڈری اور اس سے اوپر کے درجے کے طبی اداروں میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز، ٹیسٹس، میڈیکل امیجنگ، ہیلتھ چیک ایپس وغیرہ کے تمام شعبوں کا ڈیٹا شیئرنگ کا نظام فعال ہو چکا ہے۔ ٹیسٹ رپورٹس اور الیکٹرانک میڈیکل امیجز کو آن لائن چیک کیا جا سکتا ہے اور الیکٹرانک فلمز کا استعمال بھرپور طریقے سے ہو رہا ہے ۔سنہ 2025 میں اس سے عوام کو فلمز پرنٹ کروانے کے اخراجات میں 150 ملین یوآن کی بچت ہوئی ۔قابلِ قدر بات یہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن اورمصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال بنیادی سطح کے طبی سہولیات کو بہتر بنانے میں زیادہ مفید ثابت ہو رہا ہے۔ آج دوردراز پہاڑی علاقوں میں، گاؤں کے ڈاکٹرز موبائل فون میں موجود اے آئی ٹولز کی مدد سے طبی تشخیص کر سکتے ہیں،جس سے غلط یا نامکمل تشخیص اور غیر مناسب ادویات کے استعمال کے خطرات مؤثر طور پر کم ہو رہے ہیں ۔
دیہی ہیلتھ سینٹرز میں ٹیسٹ کروا کر کاؤنٹی کے ڈاکٹر کی جانب سے تشخیص کی رپورٹ دینا، اب بہت سے علاقوں میں حقیقت بن رہا ہے۔ ایسے ہیلتھ سینٹرز جہاں تکنیکی عملے کی کمی ہے، وہاں کاؤنٹی لیول کے میڈیکل کمیونٹی کے ڈاکٹر الٹراساؤنڈ روبوٹ کو ریموٹلی کنٹرول کر کے ٹیسٹ مکمل کر سکتے ہیں۔سنہ 2016 میں ” Healthy China ” پالیسی کے نفاذ کے بعد سے، چین کی ہیلتھ انشورنس کا سماجی حفاظتی نیٹ ورک مزید مضبوط ہو رہا ہے، طبی خدمات کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور طبی سہولیات کی دستیابی میں بھی مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ "صوبائی سرحدوں کے پار علاج” سے لے کر "گھر کے دروازے پر بہترین علاج” تک، عام لوگوں کو دراصل ایک مضبوط اطمینان حاصل ہو رہا ہے۔ لوگوں کے اس اطمینان کے پیچھے صحت عامہ کے شعبے کے لاکھوں اراکین کی مسلسل خدمات ہیں اور یہ "عوام کو اولین حیثیت دینے ” کے حکمرانی کے ابتدائی مقصد کی واضح عکاسی ہے۔