رنگوں کی سیر:شہری ترقی میں انسانی احساسات کی جھلک

بیجنگ (ویب ڈیسک) رواں سال موسم بہار کے آغاز سے، چین کے سوشل میڈیا پر "رنگوں کی سیر” (کلر واک) نامی ایک شہری سیاحتی انداز تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ اس سرگرمی میں لوگ کسی ایک رنگ کا انتخاب کرتے ہیں، مثلاً ہلکا سبز یا گلابی، اور پھر اسی رنگ کو تلاش کرتے ہوئے گلیوں، محلوں کی سیر کرتے ہیں۔ اس دوران سبز یا گلابی رنگ سے متعلق تصاویر جمع کی جاتی ہیں اور بعد ازاں انہیں دوستوں کے ساتھ خوشی اور دلچسپی کے اظہار کے طور پر شیئر کیا جاتا ہے۔رنگوں کا ذکر ہو تو ہر شخص کے ذہن میں مختلف تصورات ابھرتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں سبز رنگ قومی پرچم کی یاد دلاتا ہے اور مارگلہ کی پہاڑیوں پر اگنے والی سبز جھاڑیوں کا منظر بھی آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔

سفید رنگ شمالی علاقوں کے برف پوش پہاڑوں کی علامت ہے اور پاکستانی لباس میں پہنے جانے والے سفید شلوار قمیص کی بھی یاد تازہ کرتا ہے۔ اسی طرح رنگا رنگ مناظر ہمیں اس سجے ہوئے ٹرک آرٹ کی طرف لے جاتے ہیں جو وسیع و عریض صحراؤں اور سنگلاخ راستوں سے گزرتے ہیں، یا پھر لاہور کے تاریخی شیش محل کی جانب، جہاں روشنیوں کے انعکاس سے ستاروں جیسا منظر پیدا ہوتا ہے۔ درحقیقت "کلر واک” اپنے اردگرد موجود چھوٹی چھوٹی خوبصورتیوں کو دریافت کرنے اور روزمرہ زندگی کے حسن کو محسوس کرنے کا ایک دلچسپ طریقہ ہے۔یہ تصور معروف ماہر بشریات شیانگ بیاؤ کے پیش کردہ نظریے "قریبی ماحول کی ازسرنو تعمیر” سے بھی ہم آہنگ ہے۔

ان کے مطابق جدید دور کا انسان یا تو اپنی ذاتی پریشانیوں میں الجھا رہتا ہے یا پھر دور دراز اور تجریدی تصورات میں کھو جاتا ہے، جبکہ اس کے آس پاس موجود دنیا، جیسے گھر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر سبزی منڈی، ہمسائے یا محلے کی دکانیں، آہستہ آہستہ اس کی توجہ سے اوجھل ہو رہی ہیں۔ حالانکہ یہی ” اوجھل قریبی ماحول” انسانی زندگی کا سب سے حقیقی اور مضبوط سہارا ہوتا ہے۔شاید اسی شعور کے تحت لوگ دوبارہ اپنے اردگرد کی دنیا کو دریافت کرنے لگے ہیں۔ "سٹی واک” سے لے کر "کلر واک” تک، جب کوئی شخص سرخ اینٹوں کی دیوار یا کسی خاص رنگ کے منظر کو تلاش کرنے کے لیے رک جاتا ہے، راستہ پوچھنے کے لیے دکاندار سے بات کرتا ہے یا سڑک کنارے اگے درختوں اور پودوں کو غور سے دیکھتا ہے، تو اس کے لیے ماحول کے رنگ اور بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔

یوں رنگ ایک ایسے ذریعے میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو انسان کو اس کے قریبی ماحول سے دوبارہ جوڑتے ہیں اور روزمرہ زندگی کو زیادہ محسوس اور قابلِ ادراک بناتے ہیں۔خرد بینی سطح کے تجربات کی یہ جستجو دراصل صارفین کے رویوں میں آنے والی گہری تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں "جذباتی کھپت” اور "تجرباتی کھپت” لوگوں کی نئی ترجیحات میں شامل ہو چکی ہیں۔ بلیوں والے کیفے میں چند خوشگوار لمحات گزارنا، سرد موسم میں اپنے لیے ایک کپ چائے خریدنا، یا کسی قدیم عمارت میں جا کر روایتی ہنرمندی سیکھنا، اب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ "کلر واک” بھی اسی نئے رجحان کا ایک واضح اظہار ہے۔ لوگ نیلے رنگ میں آسمان کی وسعت، سبز رنگ میں شفاف پانی کی تازگی اور رنگا رنگ مناظر میں امید اور خوشی کی جھلک تلاش کرتے ہیں۔چین کی پالیسی سازی ہمیشہ عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتی ہے، اس لیے جذباتی اور روحانی اطمینان کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو بھی تیزی سے محسوس کیا گیا۔

رواں سال جنوری میں، ریاستی کونسل کے جاری کردہ "خدماتی کھپت کے نئے ترقیاتی مواقع کو فروغ دینے کے منصوبے” میں واضح طور پر کہا گیا کہ جذباتی اور تجرباتی نوعیت کی نئی خدماتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پالیسی کے اعلان کے بعد عملی اقدامات بھی تیزی سے سامنے آئے۔ "لیبر ڈے” کی تعطیلات کے دوران بیجنگ نے چھ خصوصی”بیجنگ واک” روٹس متعارف کرائے گئے، نانجنگ نے "پانچ رنگوں کا نانجنگ” ، اور چھنگ ڈو نے "رنگوں کی سیر” خصوصی سرگرمیوں کا آغاز کیا ، جس سے شہری پارکس،ویٹ لینڈز،شاپنگ مراکز،ثقافتی عمارات وغیرہ ،سب مل کر بہترین سیاحتی مصنوعات بن چکی ہیں۔جب شہر ہر فرد کی جذباتی ضروریات کو سنجیدگی سے اہمیت دینا شروع کرتے ہیں تو سوشل میڈیا پر مقبول یہ رجحان محض ذاتی تفریح کے بجائے شہری سیاحت کی ایک نئی محرک قوت بن جاتا ہے۔ کسی شہر کو اگر مختلف رنگوں کے ذریعے دریافت کیا جا سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ محفوظ، صاف ستھرا اور جمالیاتی حسن سے بھرپور ہو۔

گلیوں کی مرمت، پارکوں کی تزئین، بہتر ٹرانسپورٹ اور صاف ستھرے راستے نہ صرف سیر کو آسان بناتے ہیں بلکہ شہری زندگی کے معیار کو بھی بلند کرتے ہیں ۔ کلرواک کے اس سفر میں، یہ بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ چین میں شہری ترقی کا ماڈل اب بڑے پیمانے پر انہدام اور تعمیر کے مرحلے سے نکل کر "شہری مائیکرو اپ ڈیٹ” اور زیادہ باریک بین عوامی خدمات کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔بیجنگ کی قدیم گلیوں کی سرمئی اینٹوں سے لے کر لاہور کی سڑکوں پر دوڑتے رنگ برنگے ٹرکوں تک، رنگ دراصل پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہیں۔ جب لوگ کسی ایک رنگ کی تلاش میں نکلتے ہیں تو اس سے صرف سیاحت کو فروغ نہیں ملتا بلکہ روزمرہ زندگی سے دوبارہ جڑنے کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ ایک غیر یقینی دنیا میں یہی احساس انسان کو حقیقت، قربت اور اطمینان کی وہ کیفیت فراہم کرتا ہے جس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

Comments (0)
Add Comment