ٹوکیو (ویب ڈیسک) 6 اور 9 اگست کو جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملوں کی 81ویں برسی منائی گئی۔ ایک ایسے وقت میں جب جاپان کو اپنی جارحیت کی تاریخ پر سنجیدگی سے غور اور جنگ کے تلخ اسباق سے سبق سیکھنا چاہیے، جاپانی وزارتِ دفاع نے مالی سال 2027 کے لیے 8.9 ٹریلین ین کے ریکارڈ بلند دفاعی بجٹ کی درخواست پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ایک طویل عرصے سے جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں "جوہری حملوں کے متاثرین” کی شناخت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی آئی ہیں، جبکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے خلاف جاپانی جارحیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سنگین جرائم کے تاریخی پس منظر کو نظرانداز کرتے ہوئے جاپان اپنی تاریخی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جاپان کے دائیں بازو کی قوتوں کی وجہ سے، ملک کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگر مالی سال 2027 کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی جاتی ہے تو یہ مسلسل 15واں سال ہوگا، جب جاپان کے دفاعی اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو جاپانی حکومت کی موجودہ فوجی توسیع کا رجحان بالکل وہی ہے جو ماضی میں جاپانی عسکریت پسندی کی توسیع کا تھا۔ 1930 کی دہائی میں "بیرونی سلامتی کے خطرات” کو جواز بنا کر اُس وقت کی جاپانی انتظامیہ نے فوجی اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا، مسلح افواج کو وسعت دی اور آئینی دفعات کو مسخ کیا اور بالآخر جاپان جارحیت کی جنگ کی راہ پر گامزن ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد ایشیائی ممالک کو تباہی اور شدید انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑا۔
حالیہ دنوں میں، اخبار مینیچی شمبن جیسے جاپان کے مین اسٹریم میڈیا نے، حکومت کی دفاعی بجٹ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ جاپان کی جنگ کے بعد اختیار کی گئی دفاعی نوعیت کی پالیسی سے انحراف کی علامت ہے۔ دوسری جانب جاپانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے فوجی توسیع اور آئین میں ترامیم کے لیے سانائے تاکائیچی انتظامیہ کے خطرناک اقدامات کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی ہیں۔ریکارڈ بلند دفاعی بجٹ جاپان کی عسکریت پسندی کے رجحان کی بحالی کا ایک تشویش ناک اشارہ ہے،جس پر عالمی برادری کو انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ آگ سے کھیلنے والے بالآخر خود بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔