موجودہ عالمی صورتحال سب سے زیادہ پیچیدہ ہے، چینی وزیر خا رجہ

اقوام متحدہ (ویب ڈیسک) چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس چین کی تجویز پر منعقد ہوا، جو اس ماہ سلامتی کونسل کا صدر ہے۔اجلاس کا موضوع "اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کا تحفظ اور اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت سے بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانا” تھا۔بدھ کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس میں عالمی صورتحال پر بریفنگ دی، جبکہ 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں، جن میں 20 سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح شخصیات شامل تھیں، نے خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی۔

وانگ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے سب سے زیادہ پیچیدہ اور گہرے تغیرات سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط، فعال اور مؤثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پانچ نکات پیش کیے:پہلا، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کو دوبارہ مؤثر بنا کر اس کی رہنمائی کی قوت کو بڑھایا جائے۔دوسرا، سلامتی کونسل کے اختیار اور وقار کو بحال کر کے اس کی عملی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے۔تیسرا، بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کو فروغ دے کر زیادہ مؤثر اجتماعی قوت پیدا کی جائے۔

چوتھا، عالمی گورننس پلیٹ فارمز کو فعال بنا کر ان کی عمل درآمد کی صلاحیت کو بہتر کیا جائے۔پانچواں، اقوام متحدہ کے نظام کی کارکردگی کو مضبوط بنا کر اس کی پائیدار توانائی کو فروغ دیا جائے۔وانگ ای نے کہا کہ گزشتہ 55 برسوں کے دوران چین نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے کردار کو فروغ دینے میں فعال حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے تاریخی مرحلے میں چین کثیرالجہتی جھنڈے تلے تمام ممالک کے ساتھ مزید اتحاد کو فروغ دے گا۔

زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی گورننس کے قیام کو آگے بڑھائے گا اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے ہدف کی جانب مشترکہ پیش رفت جاری رکھے گا۔اسی دن وانگ ای نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، بحرین اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جبکہ نکاراگوا کے وزیرِ خارجہ اور قازقستان کے اول نائب وزیرِ خارجہ سمیت دیگر اعلیٰ سطح نمائندوں سے بھی خیرسگالی ملاقاتیں کیں۔

Comments (0)
Add Comment