بیجنگ (ویب ڈیسک) 12 جولائی 2016 کو، فلپائن نے یکطرفہ طور پر بحیرہ جنوبی چین سے متعلق نام نہاد ثالثی کا ڈرامہ شروع کیا تھا۔ دس سال بعد، فلپائن، آسیان کی چیئرمین شپ کے دوران ایک بار پھر اس معاملے کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے جزائر اور ان سے ملحقہ پانیوں پر چین کو ناقابل تردید خودمختاری حاصل ہے۔ نام نہاد "ساؤتھ چائنا سی ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق، بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
"ثالثی ٹریبونل” نے اپنے دائرہ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے جو فیصلہ سنایا تھا، وہ غیرمنصفانہ، غیر قانونی اور کالعدم ہے بلکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چین نے ابتدا ہی سے اس نام نہاد "فیصلے” کو نہ تو قبول کیا نہ ہی تسلیم کیا اور چین اس کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی دعوے یا اقدامات کو نہیں مانتا ۔فصیلی تاریخی ریکارڈ ز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بحیرہ جنوبی چین کے جزائر اور متعلقہ پانیوں کو دریافت کرنے، نام دینے اور ترقی دینے والا پہلا ملک چین تھا، اورچین نےان جزائر اور ان کے گرد و نواح کے پانیوں پر مسلسل، پرامن اور مؤثر انداز میں اپنی خودمختاری اور انتظامی اختیار کا استعمال کیا ہے۔
تاریخی حقائق کے علاوہ بحیرہ جنوبی چین پر چین کی خودمختاری کو مضبوط قانونی بنیاد بھی حاصل ہے۔ ایک طرف، بحیرہ جنوبی چین کے جزائر اور ان کے ملحقہ پانیوں پر چین کی خودمختاری بین الاقوامی قانون کے اس اصول کے مطابق ہے کہ "علاقائی خودمختاری دریافت اور پیشگی قبضے کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے”جبکہ دوسری جانب، دوسری جنگ عظیم کے بعد، قاہرہ اعلامیہ اور پوٹسڈیم اعلامیے سمیت بین الاقوامی قانونی دستاویزات کی روشنی میں چین نے بحیرہ جنوبی چین میں جزائر پر اپنی خودمختاری بحال کی، جسے عالمی برادری نے وسیع پیمانے پر تسلیم اور احترام کیا ۔
فلپائن کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور علاقائی دعوؤں کے جواب میں، چینی حکومت متعدد بار اپنا مؤقف واضح کر چکی ہے اور حال ہی میں ” بحیرہ جنوبی چین میں فلپائن کے علاقائی دعوؤں پر تاریخی اور قانونی تنقیدی رپورٹ ” بھی جاری کی گئی ہے، جس میں فلپائن کے علاقائی دعوؤں کو تاریخی اور قانونی بنیادوں پر مسترد کیا گیا ہے۔بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے، چین اور آسیان ممالک نے بحیرہ جنوبی چین میں فریقین کے طرز عمل سے متعلق اعلامیے کو مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا ہے، بحیرہ جنوبی چین میں ضابطہ اخلاق پر مشاورت کو تیزتر کیا گیا ہے، اور متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر اپنی بحری حکمرانی کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور سمندری اقتصادی ترقی کے مشترکہ فوائد کے فروغ کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے۔