شی زانگ کی گیرونگ کاؤنٹی میں ہنگامی امدادی کارروائیوں کا جائزہ
بیجنگ (ویب ڈیسک) کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں چین کے شی زانگ خوداختیار علاقے کے شیگاتسے شہر کی گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعے کے بعد جاری ہنگامی ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لیے متعلقہ انتظامات کیے گئے۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس کے آغاز میں تمام شرکا نے کھڑے ہو کر مٹی کے تودے گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ واقعے کے فوراً بعد جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے اہم ہدایات جاری کیں۔
ان کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری کے تحت، سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ شی زانگ پہنچے۔ سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چین کے نائب وزیر اعظم زانگ گو چھینگ بھی آفت زدہ علاقے میں امدادی کارروائیوں اور متعلقہ امور کی رہنمائی کے لیے جائے وقوعہ پہنچے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی مضبوط قیادت اور ریاستی کونسل کے ورکنگ گروپ کی رہنمائی میں، شی زانگ خود اختیار علاقے اور وزارتِ ہنگامی انتظام سمیت متعلقہ محکموں، فائر اینڈ ریسکیو ٹیموں اور چائنا اینینگ سمیت پیشہ ورانہ امدادی فورسز نے فوری طور پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
پیپلز لبریشن آرمی اور مسلح پولیس فورس کے اہلکار بھی بروقت جائے وقوعہ پر پہنچے اور اس وقت تلاش، بچاؤ اور امدادی کارروائیاں بھرپور اور منظم انداز میں جاری ہیں۔ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور واقعے کے بعد کی صورتِ حال سے نمٹنے کے اقدامات بھی مکمل طور پر جاری ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے سائنسی بنیادوں پر تلاش و بچاؤ کے منصوبے مرتب کیے جائیں اور لاپتا افراد کی تلاش اور بازیابی کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ مختلف محکموں کے درمیان مشترکہ مشاورت اور رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ نگرانی اور ابتدائی انتباہ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل اور اس کے گردونواح کے پہاڑوں کے استحکام پر پوری توجہ دی جائے اور ثانوی آفات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نیپال کے آفت زدہ علاقوں کو ہنگامی امداد فراہم کی جائے اور بین الاقوامی امدادی تعاون کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
