چین میں چھنگ مِنگ فیسٹیول روایت، یاد اور زندگی کا فلسفہ بن گیا

0

بیجنگ (ویب ڈیسک) بہار کی خوشگوار فضا، صاف و شفاف آسمان میں ایک بار پھر چھنگ مِنگ فیسٹیول آ پہنچا ہے۔دو ہزار سے زائد برسوں کے ارتقا کے دوران چھنگ مِنگ نے چینی قوم کے فطرت، کائنات اور زندگی سے متعلق نظریات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ یہ تہوار نہ صرف قیمتی روحانی ورثہ سمیٹے ہوئے ہے بلکہ چینی قوم کے اہم ترین روایتی تہواروں میں شمار ہوتا ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے چینی باشندوں کے درمیان جذباتی اور ثقافتی ربط کا ذریعہ بھی ہے۔چھنگ مِنگ فیسٹیول عموماً 4 سے 6 اپریل کے درمیان آتا ہے۔

اس دوران چین کے شمالی و جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں میں اضافہ ہوتا ہے، اسی لیے قدیم زمانے سے اس موقع پر درخت لگانے کی روایت بھی موجود رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تہوار آباؤ اجداد کی قبروں کی صفائی اور ان کی یاد کے ساتھ منسلک ہو گیا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ تہوار فطرت سے قربت کا بھی پیغام دیتا ہے، جس میں بہار کی سیر و تفریح ، پودے لگانا، پتنگ بازی، جھولے جھولنا اور دیگر کھیل شامل ہیں۔

یوں انسان ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے نئی زندگی کا بھی خیرمقدم کرتا ہے۔2006 میں چھنگ مِنگ کو چین کے پہلے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جبکہ 2008 میں اسے باقاعدہ قومی تعطیل کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد یہ تہوار نہ صرف روایتی اقدار کا حامل رہا بلکہ خریداری، سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بن گیا، جس نے مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو نئی جہت دی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.