جشن بہار دنیا بھر میں چین کی ترقی کا اظہار بن گیا

0

چین کی مسافر ٹرینوں میں ہائی اسپیڈ ٹرینز کا حصہ85فیصد تک پہنچ گیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین میں نئے قمری سال کی 9 روزہ تعطیلات ختم ہو چکی ہیں، لیکن دنیا کی سب سے بڑی سالانہ انسانی نقل مکانی ‘( جسے چینی زبان میں” چھونگ یوان ” کہا جاتا ہے) کی حرارت اب بھی برقرار ہے۔ اگرچہ اس سال ” چھونگ یوان ” کے اعداد و شمار ابھی مکمل نہیں ہوئے، لیکن پہلے بیس دنوں میں، پورے ملک میں مختلف علاقوں کے افراد کی آمد و رفت نے نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ” چھونگ یوان ” میں یہ شاندار نقل و حرکت نہ صرف چینی قمری سال کی شاندار شروعات کی تمہید ہے، بلکہ اپنے خاص انداز میں دنیا کو ایک حقیقی اور زندگی سے بھرپور چین دکھاتی ہے۔چاہے سال بھر میں نوکری یا کاروبار میں آپ کو بچت ہوئی ہو یا نہیں ، لیکن سب کو گھر جا کر نیا سال منانا ہے۔یہ سادہ سی بات، چین میں نئے سال کی آمد کے پیچھے گہری ثقافتی نفسیات کو ظاہر کرتی ہے۔

چینی عوام کے لیے، یہ محض ایک بڑی انسانی نقل مکانی نہیں، بلکہ اخلاص اور محبت سے بھرے دل کی اپنے گھر واپسی ہے۔یہ ایک جذبہ ہے جو خون میں رچا ہوا ہے اور اپنے دیس اپنے گھر کی یاد کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، جب ہم اس بڑے انسانی ہجوم کو غور سے دیکھتے ہیں، تو محسوس کرتے ہیں کہ یہ جذباتی لگاؤ کی حد سے تجاوز کر چکا ہے اور چین کی ترقی کے مشاہدے کے لیے سب سے نمایاں دریچہ بن چکا ہے۔ماضی میں واپسی کے سفر کے دوران لوگ سست رفتار ریل میں سفر کرتے تھے۔ کھڑکیوں کے باہر ٹھنڈی ہوا چلتی تھی اور ٹرین کے ڈبے مسافروں سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ مناظر اس نسل کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئے ہیں۔تب’ایک ٹکٹ بھی مشکل سے ملتا تھا’۔یہ اس وقت کی ایک حقیقت تھی ۔ اور آج، یہ منظر مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے متنوع انتخاب نے گھر واپس جانے کے راستے کو بے مثال، وسیع اور آرام دہ بنا دیا ہے۔

ہوائی جہاز ، ہائی اسپیڈ ٹرین ، اور ذاتی گاڑی ایک متحرک منظر نامہ تخلیق کرتے ہیں ۔متنوع سفری طریقے نہ صرف وقت اور فاصلے کو انتہائی کم کر دیتے ہیں بلکہ سفر کے آرام کو بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چین کی ترقی کا زندہ ثبوت ہے اور مختلف ادوار میں ہونے والی ترقی کی واضح علامت بھی۔اب ہم اپنی توجہ ریلوے کی نقل و حمل کی تبدیلیوں پر مرکوز کریں گے تاکہ چین کی مضبوط ترقی کو زیادہ بہتر انداز میں محسوس کر سکیں۔ چین میں ریلوے نیٹ ورک زمین پر یوں بچھا ہوا ہے جیسے جسم میں خون کی نالیاں ہوں ۔ ایک مرکزی اسٹیشن اکثر مختلف لائنوں کے ذریعے ایک ہی منزل تک پہنچنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اور ٹرینوں کی تعداد شہر میں چلنے والی بسوں کے برابر ہو چکی ہے۔اب وقفہ منٹوں میں گنا جاتا ہے۔ مسافر ٹرینوں میں ہائی اسپیڈ ٹرینز کا حصہ 85 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے مجموعی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔

جشن بہار کی تعطیلات میں مسافروں کے سفر کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ٹرین کے ذریعے نقل و حمل کی کارکردگی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں لگ بھگ ہزار نئے ریلوے اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جو زیادہ تر مغربی، سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ اسٹیشنز ایسے دور دراز علاقوں میں قائم ہیں جہاں پہنچنے کے لیے ماضی میں کئی ٹرینیں اور گاڑیاں بدلنا پڑتی تھیں ۔ لیکن اب آسان ٹرانسپورٹ کی وجہ سے یہ سب مسائل حل ہو گئے ہیں ۔ زیادہ ٹرینیں چل رہی ہیں، رفتار تیز ہے، نیٹ ورک زیادہ وسیع ہے اور دور دور تک پہنچنا آسان ہو گیا ہے، یہ واضح تبدیلیاں مل کر نئے دور کے چین کی کارکردگی کا نقشہ تیار کر رہی ہیں۔

چینی نئے سال کی نقل و حرکت میں زبردست تبدیلی عہدِ حاضر کی ترقی کی سچی گواہی ہے۔ اس ترقی نے ملک کو مادی قلت سے خوشحالی کی جانب، نسبتاً بندش سے مکمل کھلے پن کی جانب جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہر ایک گھر میں پہنچنے والے فرد کا مسکراتا چہرہ، آرام دہ سفر ، عوام کو ترقی سے حاصل ہونے والی خوشی، سکون اور اعتماد کا احساس دلاتی ہے۔ اس نئے چینی قمری سال میں جو متحرک ، جوش و خروش اور خوشیوں سے بھرا چین نظر آرہا ہے ،یہ چالیس سال سے زائد کی اصلاحات اور کھلے پن کی گہری بنیاد پر موجود چین ہے جو مستقبل میں بھی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ان گنت امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔دنیا پر نظر دوڑائیں تو آج بھی غیر یقینی کی حالت نظر آتی ہے اور تنازعات کے بادل آسمان پر چھائے ہوئے ہیں۔

اس صورتحال میں نئے سال کی یہ گہما گہمی اور رونق مزید قیمتی ہو جاتی ہے ۔ کیوں کہ یہ دنیا کو ایک واضح اور مثبت پیغام دیتی ہے کہ چین کی معاشرت زندگی کی توانائی سے بھرپور ہے،اس کے عوام زندگی کے لئے پر جوش ہیں ، اور چین کی ترقی ہمیشہ مضبوط اندرونی قوت کی حامل ہے۔جب بے شمار گھر وں کی لائٹینیں خاندانوں کی یکجہتی کی خوشی کو روشن کرتی ہیں، جب جشن بہار کی نقل و حرکت ترقی کی دھڑکن دکھاتی ہے تو یہ محض ایک قدیم روایتی تہوار کا ظاہری جشن نہیں ، بلکہ یہ اعلان ہے کہ چین اپنے استحکام اور خوشحالی کے ذریعے اس غیر یقینی دنیا میں ایک قیمتی یقین فراہم کر رہا ہے۔ متحرک چین اپنے منفرد انداز میں ترقی کی توانائی سے دنیا کو امید دے رہا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.