عالمی سرمایہ کاری کا جھکاؤ "چینی معیشت کی کشش” کی جانب برقرار ہے، چینی میڈیا

0

چین عالمی سرمائے کے لیے بدستور سرمایہ کاری کا سب سے پسندیدہ مقام ہے، رپورٹ

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین میں امریکن چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ سروے کے مطابق، چین میں ان امریکی کمپنیوں کے تناسب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو چینی مارکیٹ کی ترقی کے بارے میں پر امید ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے نصف سے زائد نے گزشتہ سال منافع یا خاطر خواہ منافع حاصل کیا اور ان میں سے تقریباً ساٹھ فیصد چین میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دریں اثنا، جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ چین میں جرمن کمپنیوں کی سرمایہ کاری 2025 میں گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ یہ تمام حقائق ایک واضح نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین عالمی سرمائے کے لیے بدستور سرمایہ کاری کا سب سے پسندیدہ مقام ہے۔

چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ چینی مارکیٹ کے امکانات، پالیسی ماحول اور ترقی کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اقتصادی عالمگیریت کے رجحان کو مضبوطی سے قبول کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔چینی مارکیٹ کی منفرد برتریاں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں۔ 1.4 ارب سے زائد آبادی کی وسیع صارفی مارکیٹ، کھپت کی اپ گریڈنگ اور ڈیجیٹل و گرین تبدیلی کے تیزی سے بڑھتے رجحانات نے چینی مارکیٹ کو غیر معمولی وسعت اور لچک فراہم کی ہے۔ نئی توانائی کی گاڑیوں، سمارٹ ہوم اپلائنسز، اور سلور اکانومی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بڑھتی ہوئی مانگ نے غیر ملکی کمپنیوں کے لئے وسیع راستے کھول دیے ہیں۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ چین کے پاس مکمل صنعتی نظام، موثر لاجسٹکس نیٹ ورک، اور مضبوط سپورٹنگ صلاحیتیں موجود ہیں، جو غیر ملکی کمپنیوں کو آر اینڈ ڈی سے لے کر بڑے پیمانے پر پیداوار تک اور ٹیسٹ سے لے کر مقبولیت تک تیزی سے کلوزڈ لوپ حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ایسٹرا زینیکا آنے والے دس سالوں میں چین میں 100 بلین یوآن سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ سیمنز نے چین کی کمپیوٹنگ پاور کی ضروریات کے مطابق جدید حل جاری کیے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ چین کو صنعتی چین، جدت پر مبنی ماحول اور مارکیٹ کی مانگ میں مجموعی برتریاں حاصل ہیں، اور یہی حقیقت اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ "اگلا چین بھی چین ہی ہوگا”۔

ایک مستحکم اور شفاف پالیسی ماحول اور مسلسل گہرا ہوتا ہوا ادارہ جاتی کھلاپن، چین میں غیر ملکی سرمایے کی ترقی کے لئے بنیادی ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔ "غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے والی صنعتوں کا کیٹلاگ” کا 2025 ایڈیشن واضح طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو جدید مینوفیکچرنگ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی جیسے کلیدی شعبوں اور ملک کے وسطی اور مغربی خطوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس سے کھلے پن کی توسیع کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ بعض ممالک میں بار بار پالیسی کی تبدیلیوں اور ٹیرف میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے مقابلے میں، چین کی پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام کاروباری اداروں کو طویل مدتی منصوبے بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چین میں جرمن کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں سال بہ سال 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکہ میں ان کی سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی آئی ہے، جو چین پر اعتماد کی ایک واضح مثال ہے۔

"مارکیٹ انٹری” سے لے کر "گہرے انضمام” تک، زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کمپنیاں خریداری اور آر اینڈ ڈی جیسے اہم عمل کو چین میں قائم کر رہی ہیں۔ ووکس ویگن کی جانب سے چین کے شہر حہ فے میں مکمل آر اینڈ ڈی اور ٹیسٹنگ سینٹر کا قیام اس رجحان کی نمایاں مثال ہے، جو چین کے کاروباری ماحول پر عالمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ چینی معیشت کی لچک اور اختراعی محرک نے طویل مدتی ترقی کے لیے غیر ملکی کمپنیوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے2026 کے لئے چین کی اقتصادی ترقی کے لیے اپنی پیشن گوئی میں اضافہ کیا، اور گولڈمین ساکس کو توقع ہے کہ چین کی برآمدات 5 فیصد کی مضبوط ترقی کو برقرار رکھیں گی۔ یہ پیشن گوئیاں چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی شاندار مسابقت اور اس کے اقتصادی ڈھانچے کی مسلسل اصلاح کا نتیجہ ہیں۔ نئے معیار کی پیداواری قوتوں کی بھرپور ترقی اور تیزی سے ابھرتے ہوئے اختراعی ماحولیاتی نظام نے غیر ملکی کمپنیوں کو "میڈ اِن چائنا” سے "چین میں اختراع” اور "چین کے ساتھ اختراع ” کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

چین کی وزارت تجارت کی اکیڈمی آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن کی حالیہ رپورٹ "چائنا میں ملٹی نیشنل کارپوریشنز” سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں غیر ملکی صنعتی اداروں کی جانب سے گزشتہ دہائی کے دوران آر اینڈ ڈی پر سرمایہ کاری اور ایجادات کے پیٹنٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے کہ چین عالمی ٹیکنا لوجی کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں پیش کردہ ترقیاتی بلیو پرنٹ نے غیر ملکی کمپنیوں کو طویل مدتی مواقع فراہم کئے ہیں۔ چاہے یہ ہائی ٹیک صنعتوں کی مربوط ترقی ہو یا سبز اور کم کاربن والے شعبوں میں تعاون، اتفاق رائے یہ ہے کہ "چین کے ہمراہ چلنا مواقع کے ہمراہ چلنے کے مترادف ہے۔”عالمی سرمائے کا یہ رجحان درحقیقت اقتصادی عالمگیریت کے ناگزیر عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب تحفظ پسندی اور یکطرفہ پسندی عروج پر ہے، چین ہمیشہ سے کثیرالجہتی کا پختہ محافظ اور اقتصادی عالمگیریت کو فعال طور پر فروغ دینے والا ملک رہا ہے۔

چین کے بارے میں غیر ملکی کمپنیوں کی مسلسل امید بنیادی طور پر کھلے پن، تعاون، باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ترقیاتی ماڈل کی توثیق ہے۔ چین کی سپر بڑی مارکیٹ کی کشش، مستحکم پالیسیوں کی ضمانت، اور اختراعی ترقی کی قوت محرکہ مل کر عالمی سرمائے کی جانب سے پسند کردہ "چائنا گریویٹی فیلڈ” تشکیل دیتی ہیں۔ مستقبل میں بھی چین کھلے رویے کے ساتھ دنیا کا استقبال جاری رکھے گا، اور غیر ملکی سرمایے سے چلنے والے ادارے بھی یقیناً چینی معیشت کے ساتھ گہرے انضمام میں مزید ترقیاتی منافع کا اشتراک کریں گے اور مشترکہ طور پر باہمی فائدے اور جیت جیت کے نتائج کا ایک نیا باب رقم کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.