امریکی گرین لینڈ منصوبہ: بالادستی کے جنون میں کھیلی گئی مضحکہ خیز چال

0

واشنگٹن (ویب ڈیسک) یورپی ممالک جیسے ڈنمارک، سویڈن اور جرمنی کے متعدد رہنماؤں نے امریکہ کی جانب سے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے بارے میں "دھمکی آمیز بیانات” پر سخت تنقید کی ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین راسمِس جارلوف نے 11 تاریخ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر گرین لینڈ کی وجہ سے کوئی فوجی تصادم ہوا تو یہ "تاریخ کی سب سے احمقانہ جنگ” ہوگی۔ جارلوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی بات پر تنقید کرتے ہوئے اسے "جدید تاریخ کا سب سے غیر قانونی علاقائی دعویٰ” قرار دیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حصول کا تصور کوئی نیا خیال نہیں، بلکہ یہ ان کے پہلے دور حکومت 2018 میں شروع ہوا تھا۔ مغربی میڈیا کے مطابق، 2018 میں گرین لینڈ خریدنے کی تجویز سب سے پہلے امریکی کاسمیٹکس کمپنی ایسٹی لاوڈر کے بانی خاندان کے رکن رونالڈ لاوڈر نے دی تھی، جو ٹرمپ کے طالب علمی دور کے دوست اور ان کے اہم مالی معاون سمجھے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد، ان کی شہرت پسندی نے ایک ایسے حلقے کو مزید تقویت دی جسے ناقدین "خوشامدی ٹولہ” قرار دیتے ہیں۔

مفادات اور سیاسی عزائم کے زیر اثر یہ عناصر ٹرمپ کے غیر معمولی اور اشتعال انگیز خیالات کو حد سے آگے بڑھانے میں کردار ادا کرتے رہے۔ رونالڈ لاوڈر، سینیٹر ٹام کاٹن، اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف سٹیفن ملر جیسے افراد نے گرین لینڈ منصوبے کو انیسویں صدی میں لوزیانا اور الاسکا کی خریداری جیسا عظیم کارنامہ بنا کر پیش کیا، جس سے ٹرمپ کی حد سے بڑھی ہوئی خود ستائشی خواہش کو مزید ہوا ملی۔ شمالی بحرِ منجمد اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے سنگم پر واقع برفانی خطہ گرین لینڈ ، درحقیقت قطبی ماحولیات کے تحفظ اور پُرامن ترقی کا اہم مرکز ہے، مگر اب اسے بعض امریکی قوتیں چین کے خلاف دباؤ اور اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ "اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ نہ کیا تو چین یا روس کر لے گا”، محض ایک من گھڑت بیانیہ ہے، جو اس منصوبے کی غیر قانونی، منافقانہ، خطرناک اور مضحکہ خیز نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ چین اور گرین لینڈ کے درمیان تعاون ہمیشہ برابری، باہمی فائدے پر مبنی رہا ہے،جس میں وسائل کے مناسب استعمال، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے شعبے شامل ہیں، اور اس میں کسی قسم کی سیاسی شرط شامل نہیں کی گئی۔

اس کے برعکس، امریکہ کی جانب سے معمول کے بین الاقوامی تعاون کو "خطرہ” قرار دینا دراصل بالادستانہ سوچ کے تحت پیدا ہونے والی بے چینی کا عکس ہے۔ گرین لینڈ دنیا کے آٹھویں بڑے نایاب معدنی ذخائر رکھتا ہے ، مگر امریکہ منصفانہ مسابقت کے بجائے علاقائی الحاق جیسے فرسودہ اور جارحانہ طریقوں سے مارکیٹ توازن کو توڑنا چاہتا ہے، جو عالمی قوانین اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے صریحاً متصادم ہے۔قانونی نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ محض ایک خیالی تصور ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، اور اس کی خودمختاری واضح اور مسلمہ ہے، جسے کسی دوسرے ملک کی جانب سے خرید و فروخت کی شے نہیں بنایا جا سکتا۔ 19ویں صدی کے علاقائی الحاق کی منطق اب جدید بین الاقوامی نظام میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو نہ صرف ڈنمارک کی حکومت نے سختی سے مسترد کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ قطبی بحری راستوں کی ترقی اور وسائل کا استعمال عالمی اشتراک اور مشترکہ مفاد کے اصول کے تحت ہونا چاہیے، جبکہ امریکہ کی یکطرفہ کشمکش خطے میں کشیدگی بڑھانے اور روس سمیت دیگر متعلقہ ممالک کی جوابی کارروائیوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید برآں، گرین لینڈ کا ماحول نازک ہے، جس کی ترقی کے لیے سائنسی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، نہ کہ فوجی توسیع اور جغرافیائی مقابلے کی۔ اس پاکیزہ خطے کو”بالادستی کے اگلے مورچے” میں تبدیل کرنا شمالی قطبی خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔زندگی شطرنج کی مانند ہے جہاں ہر موڑ پر منظر بدلتا رہتا ہے، عمرِ گریزاں چائے کی طرح ہے جہاں ہر سانس نیا ذائقہ لے کر لاتی ہے۔دنیا میں وہ تبدیلی آ رہی ہے جو صدیوں میں ایک بار دکھائی دیتی ہے۔ کثیر القطبی رجحان کے تحت، بالادستی کی توسیع کا دور ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ کا گرین لینڈ کو اپنی بالادستی کے تحفظ کا” آخری ذریعہ "سمجھنا درحقیقت اس کی اپنی کمزوری اور عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے علاقائی الحاق اور یکطرفہ پابندیوں کے فرسودہ طریقے نہ صرف بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات کے خلاف ہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے کے خلاف بھی ہیں۔ گرین لینڈ کا مستقبل گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کی حکومت کو خود طے کرنا چاہیے، اور بالادستی کے عزائم پر مبنی کسی بھی مداخلت یا ہوس کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.