چین اور افریقہ ہمیشہ مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چینی وزیر خارجہ

0

افریقہ کی جدید کاری کے بغیر دنیا کی جدیدیت ممکن نہیں ہے، وانگ ای کی میڈیا سے گفتگو

بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افریقی یونین، ایتھوپیا، تنزانیہ اور لیسوتھو کے کامیاب دوروں کے اختتام کے بعد چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین اور افریقہ ہمیشہ مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور تمام افریقی ممالک کے عوام کے جائز حقوق و مفادات کا ثابت قدمی کےساتھ تحفظ کریں گے۔ منگل کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین سب سے بڑا ترقی پذیر ملک ہے اور افریقی یونین سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کی حامل علاقائی تنظیم ہے۔

فریقین کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا چین اور افریقہ کی عالمی امن و ترقی کے فروغ میں مشترکہ کوشش ہے۔ ” چین-افریقہ افرادی و ثقافتی تبادلے کا سال” کے انعقاد کا مقصد چین-افریقہ تعاون کو وسیع کرنا اور چین-افریقہ دوستی کو مزید گہرا کرنا ہے۔ دورے کے دوران، افریقی دوستوں نے ون چائنا پالیسی پر قائم رہنے اور قومی وحدت کی تکمیل کے لیے چینی حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور افریقہ کے جدیدیت کے لیے مل کر کام کرنے سے ہی دنیا جدیدیت کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ افریقہ کی جدید کاری کے بغیر دنیا کی جدیدیت ممکن نہیں ہے۔

دورے کے دوران،افریقی فریق کو 20ویں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس میں منظور کی گئی "15ویں پانچ سالہ منصوبہ” کی تجویز سے آگاہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ افریقہ سمیت دنیا بھر کے ممالک کے لیے بھی "موقع کی فہرست” ہے، اور یہ کہ چین کی بڑی منڈی افریقہ کے لیے صحیح معنوں میں بہترین موقع ثابت ہو گی۔ وانگ ای کا کہنا تھا کہ ستمبر 2024 میں چین-افریقہ تعاون فورم کے بیجنگ سمٹ کے کامیاب انعقاد کے بعد سے 90 فیصد سے زائد اہداف یا تو حاصل ہو چکے ہیں یا ان میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.