امریکی اقدامات قومی سلامتی کے تصور کو بے جا استعمال کرتے ہیں، وزارتِ تجارت
بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان ہہ یا دونگ نے منعقدہ معمول کی پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین نے امریکہ کی جانب سے ڈرونز اور ان کے پرزہ جات پر دفعہ 232 کے تحت محصولات عائد کرنے کے فیصلے کا نوٹس لیا ہے۔چین کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکہ کے دفعہ 232 کے تحت یہ اقدامات "قومی سلامتی” کے نام پر یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی پر مبنی ہیں۔
حقیقت میں امریکہ کو چین کی جانب سے برآمد کیے جانے والے ڈرونز بنیادی طور پر زراعت، آلات کے معائنے، فلم و ٹیلی وژن اور تفریح سمیت شہری شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات قومی سلامتی کے تصور کو بے جا استعمال کرتے ہوئے تجارتی شراکت داروں پر مختلف شرحوں کے محصولات عائد کرتے ہیں اور چین کی متعلقہ مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
اس سے چینی کاروباری اداروں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچتا ہے، عالمی ڈرونز کی پیداوار اور سپلائی چین میں تعاون کا نظام متاثر ہوتا ہے اور منصفانہ مسابقت کے لیے مارکیٹ کا ماحول مزید خراب ہوتا ہے۔ چین اس کی سخت مخالفت کرتا ہے اور امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ دفعہ 232 سے متعلق محصولات کے اقدامات فوری طور پر واپس لے۔
