پانڈا بانڈز کی اوور سبسکرپشن، مارکیٹ کی جانب سے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” پر اعتماد کا اظہار

0

فنڈز بنیادی طور پر صاف توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، رپورٹ

بیجنگ (ویب ڈیسک) 1.75 ارب یوآن مالیت کے اجراء کے مقابلے میں سبسکرپشنز کی مجموعی مالیت 8.8 ارب یوآن سے تجاوز کر گئی، یعنی طلب اجرا کے حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔ بدھ کے روز چینی میڈیا کے مطابق پاکستان کا پہلا خودمختار آر ایم بی پانڈا بانڈ کامیابی کے ساتھ چین کی انٹربینک بانڈ مارکیٹ میں 2.5فیصد شرحِ سود پر جاری کیا گیا، جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کی بیرونی خودمختار فنانسنگ لاگت کی کم ترین سطح قائم کی۔ یہ بانڈ، جس کی مشترکہ ضمانت ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے دی ہے، اس سے حاصل ہونے والے فنڈز بنیادی طور پر صاف توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی مستحکم معاشی بحالی کی تصدیق کرتا ہے بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تبادلوں اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے مستقبل کو مارکیٹ کی جانب سے مکمل تسلیم کرنے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔سبسکرپشن میں غیر معمولی دلچسپی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کی کامیابیوں کے اعتراف کی عکاسی ہے۔ ایک طویل عرصے سے، پاکستان نے ترقیاتی فنڈز کے حصول کے لیے امریکی ڈالر پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مالیاتی لاگت زیادہ رہی بلکہ یہ بین الاقوامی زر مبادلہ کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی پالیسی میں ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کا شکار بھی ہے، جس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی پر بیرونی دباؤ زیادہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاکستان نے مالیاتی ایڈجسٹمنٹ اور صنعتی اپ گریڈنگ جیسے عملی اقدامات کو مسلسل نافذ کیا ہے، جس کی بدولت ملکی معیشت میں بتدریج استحکام اور مارکیٹ کے اعتماد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، دو بڑے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ مشترکہ گارنٹی کے ساتھ، بانڈ کی ادائیگی کی مکمل ضمانت ہے، جو سرمایہ کاروں کے خدشات کو مکمل طور پر ختم کرتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی فعال شرکت پاکستان کی مستقبل کی ترقی کی صلاحیت کے بارے میں ان کی امیدوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے کئی سالوں سے قائم تعاون کی ٹھوس بنیاد پر ان کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ مختلف کوآپریٹو پراجیکٹس نے صحیح معنوں میں مقامی ترقی کو آگے بڑھایا ہے اور مارکیٹ کے اس اعتماد کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔یہ اعتماد، جو کیپٹل مارکیٹ سے ملتا ہے، چین اور پاکستان کے درمیان گہری روایتی دوستی پر قائم ہے اور یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں مالیاتی رابطے اور انضمام کا واضح مظہربھی ہے۔ 21 مئی کو چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ ہے۔ اس خودمختار پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء چین میں جنوبی ایشیا کے خود مختار ممالک کی طرف سے اسی طرح کے بانڈز کے اجراء میں ایک خلا کو پر کرتا ہے۔ زیادہ غیر مستحکم ڈالر پر مبنی مالی اعانت کے مقابلے میں، آرایم بی فنانسنگ پاکستان کو اپنے قرضوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، فنڈز تک اس کی رسائی کو متنوع بنانے، اور ایک کرنسی پر انحصار سے منسلک ترقیاتی خطرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

دو بڑے بین الاقوامی بینکوں کی مشترکہ ضمانتوں پر مبنی تعاون کے نئے ماڈل نے بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے چین کی کیپٹل مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے ایک مستحکم اور قابل عمل راستہ کھول دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف شراکت دار ممالک کے لیے کم لاگت والے ترقیاتی فنڈز تک رسائی آسان بناتا ہے، بین الاقوامی مالیاتی قوتوں کی مربوط کوششوں کو فروغ دیتا ہے، بلکہ مزید خطوں اور لوگوں کو بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن سے پیدا ہونے والے ترقیاتی منافع پہنچانےکو بھی ممکن بناتا ہے۔موجودہ عالمی اقتصادی صورت حال کے پیش نظر، مارکیٹ میں پاکستانی پانڈا بانڈز کی مقبولیت آر ایم بی کی انٹرنیشنلائزیشن کی مسلسل پیش رفت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ ماضی میں آر ایم بی بنیادی طور پر سرحد پار تجارتی لین دین تک محدود تھا. آج، خودمختار ممالک چین میں آر ایم بی بانڈز جاری کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں ، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے شعبے میں آرایم بی کے باضابطہ داخلے اور اس کے بین الاقوامی استعمال میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔

عالمی معاشی بحالی میں سست روی اور پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی مالیاتی صورتحال کے پس منظر میں، آر ایم بی نے مستحکم قدر، مناسب مالیاتی لاگت، اور جامع مارکیٹ ماحول سمیت دیگر برتریوں کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ ممالک کی طرف سے قبولیت اور پذیرائی حاصل کی ہے۔ اس مرتبہ پانڈا بانڈز کے اجراء سے نہ صرف پاکستان کو عوامی فلاح، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل میسر آئیں گے بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے متنوع مالیاتی و سرمایہ کاری نظام کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

یہ چھوٹے بانڈز باہمی فائدے اور جیت جیت کے تعاون کے ترقیاتی فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں، اور بیرونی دنیا کے لیے اپنے کھلے پن کی وسعت کے حوالے سے چین کے مضبوط موقف کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ پانچ گنا سے زیادہ اوور سبسکرپشن چین اور پاکستان کے درمیان عملی تعاون کی توثیق ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر، کھلی ترقی کے راستے پر چین کے عزم کی عکاسی ہے۔ مستقبل میں جیسے جیسے مزید شراکت دار ممالک چین کی بانڈ مارکیٹ میں داخل ہوں گے، سرحد پار مالیاتی تعاون کے امکانات مزید وسیع ہوتے جائیں گے۔ تمام فریقوں کے باہمی تعاون سے نہ صرف عملی اشتراک کو مزید گہرا کیا جا سکے گا بلکہ ترقی کے ثمرات بھی وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچیں گے، جو عالمی معیشت کی پائیدار اور مستحکم ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.