ٹوکیو :جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے یاسوکونی شرائن پر حاضری کی فیس ادا کی۔ ساتھ ہی جاپانی کابینہ کے کئی عہدیداروں اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی یاسوکونی شرائن پر حاضری دی۔ ٹوکیو ٹرائلز کے 80 سال مکمل ہونے کے اس خصوصی موقع پر جاپانی سیاست دانوں کے یاسوکونی شرائن پربار بارحاضری دینے سے جنگی مجرموں کو ان کے جرائم سے آزاد کرنے ، جاپانی جارحیت کی تاریخ کو مسخ کرنے ، اور "دوبارہ عسکریت پسندی” کی راہ ہموار کرنے کے مذموم عزائم عیاں ہو گئے ہیں۔ یاسوکونی شرائن کبھی بھی کوئی مذہبی مقام یا عبادت گاہ نہیں رہی، بلکہ یہ حقیقت میں "جنگی مجرموں کا مزار” ہے جو جاپانی عسکریت پسندی کی ایک روحانی علامت ہے، جہاں ہیدیکی ٹوجو سمیت دوسری جنگ عظیم کے کلاس اے کے 14 جنگی مجرموں کی یادگاروں کوشامل کیا گیا ہے جن کے ہاتھ متاثرہ ممالک کے عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بےشمار مضبوط ثبوتوں اور سخت قانونی اصولوں کے ساتھ، آج سے 80 سال قبل ٹوکیو ٹرائلز نے ہمیشہ کے لیے جاپان کےان جنگی مجرموں کے انسانیت سوز جرائم کو بے نقاب کیا اور انہیں انسانی تاریخ کے لیے شرمندگی کا نشان بناتے ہوئے بین الاقوامی انصاف کا علم سربلند کیا اور جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کی قانونی بنیاد رکھی۔ لیکن اس کے باوجود جاپانی عسکریت پسندی کی سوچ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا ۔ 1978 میں جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں نے ان جنگی مجرموں کی یادگار کو مزار میں شامل کرنے کے انتظامات طے کر لیے تھے، تاہم اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا ۔ ان حقائق کا انکشاف بیرونی دنیا کے سامنے 1979 میں ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس وقت بھی جاپانی حکومت بخوبی جانتی تھی کہ اے کلاس جنگی مجرموں کو یاسوکونی شرائن میں شامل کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ نیپون اسپورٹ سائنس یونیورسٹی میں آئین و قانون کے پروفیسر ماساہیکو شمیزو نےجاپانی حکمرانوں کے یاسوکونی شرائن پر حاضری کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "یاسوکونی شرائن پر حاضری دینے والے جاپانی سیاست دانوں کے اقدامات ایسے ہیں جیسے جرمن صدر یا چانسلر ہٹلر کی قبر پر آئے۔ تاریخی نقطہ نظر سے، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔” کئی سالوں سے، جاپان میں دائیں بازو کی قوتیں نصابی کتب پر نظر ثانی کے بہانے اپنی کی گئی تاریخی جارحیت کی ذمہ داری سے انکار کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں، جاپانی دائیں بازو کے گروہوں کو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی بڑے ماڈلز کو "زہریلا” اور آلودہ کرنے پر بے نقاب کیا گیا ہے جس میں دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کے بارے میں عالمی سطح پر عوام کی سمجھ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس پر عالمی رائے عامہ کی جانب سے شدید مذمت دیکھی گئی ۔ موجودہ علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپانی حکومت اپنی عسکری توسیع کو بڑھا رہی ہے،اور عسکریت پسندی کی نئی شکل اختیار کر رہی ہے ۔لیکن یاد رہے کہ تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا اور انصاف کی بے حرمتی نہیں کی جا سکتی۔ جاپان میں وہ لوگ جو اس خطے اور دنیا کے لیے خطرات پیدا کر کے جارحیت اور توسیع پسندی کی پرانی سوچ اور پرانے راستے پر دوبارہ چلنے کی کوشش کر رہے ہیں ،انہیں لازمی طور پر اس کا مکمل حساب چکانا پڑے گا ۔