امریکہ اور چین اے آئی مقابلہ میں حدود پر متفق ،رپورٹ

بیجنگ :چین کی مصنوعی ذہانت کی ابھرتی ہوئی کمپنیاں کم قیمت والے اے آئی ماڈلز متعارف کروا رہی ہیں۔20 اگست کو، ایک نامعلوم اے آئی ماڈل اچانک سامنے آیا اور تیزی سے مشہور ہو گیا۔ امریکی پلیٹ فارم سروس OpenRouter جو مختلف ماڈلز استعمال کرتا ہے، اس پر اس ماڈل کا استعمال تیزی سے بڑھا، یہاں تک کہ اس نے چینی کمپنی DeepSeek کے 4-Flash” کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس طرح چینی اے آئی ماڈلز کے مارکیٹ شیئر میں اضافے کا رجحان مزید واضح ہو گیا ہے۔ OpenRouter پلیٹ فارم کے ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ ٹوکنز استعمال کرنے والے پانچ ماڈلز میں سے چار چین سے ہیں اور چینی کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر تقریباً نصف ٹریفک ہے۔چینی مصنوعی ذہانت ایک ایسے طریقے سے مارکیٹ کا نقشہ بدل رہی ہیں جسے عالمی صارفین نظرانداز نہیں کر سکتے۔کھوکھلے نعرے لگانے کے بجائے، وہ "کافی طاقتور، کافی معقول اور اوپن سورس کے لیے تیار” ہیں اور ٹھوس تکنیکی اور جدیدحکمت عملی پر انحصار کرتی ہیں۔پہلا: "فلیش” (Flash) ماڈلز: چینی کمپنیاں مسلسل ایسے ورژن متعارف کروا رہی ہیں جن میں اے آئی کی کارکردگی دکھانے والے پیرامیٹرز کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ ان ماڈلز کے ناموں میں عام طور پر "فلیش” شامل ہوتا ہے اور ان کا استعمال کافی سستا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے کاموں کے لیے اتنی "ذہین” اے آئی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ "فلیش” ماڈل بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک پرتعیش بس کو ایک ایسی وین میں تبدیل کر دیا جائے جو کم ایندھن کے استعمال میں تیز بھاگے اور اسے خاص طور پر سامان ڈھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر روزمرہ کے کاموں کے لیے یہ گاڑی بالکل ٹھیک ہے، اور اس کا "ایندھن” انتہائی کم ہے۔دوسرا: "”MoE ٹیکنالوجی: چینی کمپنیاں oE” نامی تکنیکی جدت کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں، یعنی ماڈل میں صرف ضروری حصے کو ہی کال کیا جاتا ہے تاکہ لاگت کم ہو سکے۔ یہ بالکل ایک بڑے ہسپتال کی طرح ہے، جہاں آنے والے ہر مریض کے لیے سب سے بہترین ماہر ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پہلے مریض کا معائنہ کیا جاتا ہے اور پھر صرف اسی ڈاکٹر کو بلایا جاتا ہے جس کی ضرورت ہے، اس طرح مسئلے کو حل کرنے کی لاگت میں بہت کمی آ جاتی ہے۔تیسرا: مقامی چپس: امریکہ، چین کو اعلیٰ معیار کی اے آئی چپس کی فروخت پر پابندی لگاتا رہا ہے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ چینی کمپنیاں اپنی ہی اے آئی چپس بنانے پر مجبور ہو گئیں۔ مزکورہ چینی ماڈل x-Alpha” میں مکمل طور پر مقامی چپس استعمال ہو رہی ہیں۔ امریکی پابندی کے باعث، چینی اے آئی "امریکہ سے پاک” ہونے اور لاگت کو کنٹرول کرنے میں سب سے آگے نکل گئی ہیں۔چوتھا: اوپن سورس اشتراک: چینی کمپنیاں اپنی ٹیکنالوجی کو عوامی طور پر شیئر کرنے پر آمادہ ہیں، تاکہ دنیا بھر کے ڈویلپرز مفت یا کم لاگت پر اسے استعمال بھی کریں اور بہتر بھی بنا سکیں۔ یہ بالکل ایک بڑے شاپنگ مال کی طرح ہے، جہاں دکان کا کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ تاجر اور گاہک راغب ہوتے ہیں، اور ایک متحرک ایکو سسٹم قائم ہو جاتا ہے۔چینی اور امریکی اے آئی تحقیق و ترقی کے اخراجات کے بارے میں، انڈسٹری کے ماہرین نے ایک اور واضح بات بتائی ہے: چین کی بڑی اے آئی کمپنیوں کا تحقیقی بجٹ امریکی دیوہیکل کمپنیوں کے بجٹ کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے اور وہ قیمتوں کو امریکی حریفوں کے مقابلے میں 10 سے 20 فیصد تک گرا سکتے ہیں۔ MoE کے تحت صرف ضروری پیرامیٹرز کو فعال کرنے سے لے کر ، اے آئی چپس کی مقامی طور پر تیاری میں مسلسل اضافہ اور اوپن سورس ایکو سسٹم کے ذریعے ڈویلپرز کے نیٹ ورک کو بڑھانے تک ، چینی اے آئی ماڈلز کی قیمت اور کارکردگی میں بہتری کا فائدہ انجینئرنگ جدت، سپلائی چین اور تنظیمی کارکردگی کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔جب اے آئی ایجنٹ کا دور آئے گا، تو منصوبہ بندی، غلطیوں سے سیکھنا اور متعدد بار کال کرنا ٹوکنز کا بہت زیادہ استعمال کریں گے۔ صارفین کو سب سے مہنگا اور جدید ترین ماڈل نہیں چاہیے بلکہ وہ ایک ایسی "مستحکم صلاحیت” چاہتے ہیں جس کا "ہر بار کال کرنے کا خرچ برداشت کیا جا سکے” اور چینی کمپنیاں بالکل اسی طلب کے مطابق چل رہی ہیں۔یوں دباؤ کا رخ امریکہ کی طرف مڑ گیا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ "امریکہ کو اے آئی کے مقابلے میں سبقت برقرار رکھنی چاہیئے، اسے ہار کا متحمل نہیں ہونا چاہیئے”۔ ان کے الفاظ میں بڑی طاقتوں کی رسہ کشی اور قومی سلامتی کا رنگ نمایاں ہے، لیکن اس کے پیچھے جو بات نظر آتی ہے، وہ اجارہ داری کے احساس کو برقرار رکھنے کی خواہش ہے۔ ایک طرف امریکہ میں بعض حلقے چین کی اے آئی ترقی کو امریکی ماڈلز کی تقطیر” اور "وسائل کے ناجائز حصول” سے تعبیر کرتے ہیں، تو دوسری جانب برآمدی پابندیوں، سرمایہ کاری کے جائزوں اور سپلائی چین کو منقطع کرنے کے لیے امریکی حکومت پر زور دے رہے ہیں۔ اس طرح کے دعوؤں کے مقابلے میں چین کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کی مشترکہ فلاح سے وابستہ ہے، اس لیے اسے کھلے پن، جامع، سب کے لیے رسائی اور بھلائی کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔ خطرات کی داستانیں گھڑنا اور تصادم اور غیر منصفانہ مسابقت کو ہوا دینا عالمی اے آئی گورننس میں رکاوٹ بنے گا اور کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگا۔پھر ایک اہم موڑ آیا۔ 23 سے 25 ستمبر تک چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان نے تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات سمیت اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ حاصل ہونے والے آٹھ نکاتی مشترکہ اتفاقِ رائے میں فریقین نے چین-امریکہ مصنوعی ذہانت مکالمے کے قیام اور اے آئی سے متعلق خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے طے کیا کہ مکالمے کا اگلا دور رواں سال نومبر میں ہوگا اور مصنوعی ذہانت سے متعلق باہمی رابطوں کا راستہ بھی کھولا جائے گا۔یہ چند الفاظ بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی اہمیت کم نہیں۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک عملی طریقہ کار کی بنیاد ہے۔ اس میں مکالمہ ہے، زیرِ بحث موضوعات ہیں، ٹائم ٹیبل ہے اور مشکل حالات میں بروقت رابطے کا راستہ بھی موجود ہے۔ امریکی پابندیوں میں مسلسل اضافے کے ماحول میں یہ قدم گویا "علیحدگی” کی سمت بڑھتے دروازے کو کچھ پیچھے دھکیلتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں مسابقت ہو سکتی ہے، لیکن مسابقت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام روابط مکمل طور پر منقطع کر دیے جائیں۔اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو چینی کمپنیوں نے اے آئی کی لاگت میں نمایاں کمی لانے میں پیش رفت کی ہے، جبکہ امریکی ادارے اب بھی جدید ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے کئی شعبوں میں برتری رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلق محض "ایک دوسرے کی جگہ لینے” کے بجائے "ایک دوسرے کی تکمیل” کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے زیادہ مفید راستہ یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور ماڈل کی حفاظت، ڈیٹا کی نگرانی، معیارات میں باہمی ہم آہنگی اور خطرات سے پیشگی آگاہی جیسے مشترکہ شعبوں میں تعاون کریں، بجائے اس کے کہ دونوں کے تکنیکی راستے مزید دور ہوتے جائیں اور بالآخر ایسے دو الگ ماحول وجود میں آئیں جن کے درمیان کسی قسم کا رابطہ باقی نہ رہے۔یہ نہ صرف دونوں ممالک کی کمپنیوں اور صارفین کے لیے مفید ہوگا بلکہ مشترکہ خطرات کے مقابلے میں پوری انسانیت کے لیے بھی ایک زیادہ قابلِ عمل راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ چین اس سے قبل "عالمی مصنوعی ذہانت گورننس کی تجویز” پیش کر چکا ہے، جس میں کھلے پن، جامعیت، سب کے لیے رسائی اور بھلائی کی حمایت کی گئی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے سیاسی استعمال اور اسے محض ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اب جب اس تصور کو دونوں ممالک کے سربراہان کی سطح پر ایک باقاعدہ مکالماتی طریقہ کار میں شامل کیا گیا ہے، تو یہ عالمی اے آئی گورننس کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔اتفاقِ رائے صرف ایک آغاز ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ فریقین اپنی اپنی صلاحیتوں کو عملی تعاون میں تبدیل کریں گے، تاکہ دنیا کو "مصنوعی ذہانت کے آہنی پردے” کے بجائے ایک زیادہ امید افزا راستہ دکھائی دے۔ مسابقت کو تعمیری حدود میں رکھا جائے اور تعاون کو پوری انسانیت کی مشترکہ فلاح کی سمت آگے بڑھایا جائے۔ جب تعاون محض ایک اتفاقِ رائے نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کی شکل اختیار کرے، تو چین کی اے آئی کے شعبے میں "مضبوط، کم لاگت اور کھلے پن” پر مبنی کامیابیاں اور امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتیں مل کر ایسی مشترکہ عوامی قدر پیدا کر سکتی ہیں جس سے پوری دنیا مستفید ہو۔

Comments (0)
Add Comment