اسلام آباد (ویب ڈیسک) چینی وزیر خارجہ وانگ ای نےجرمنی کے وزیر خارجہ یوہان و یڈیفول کے ساتھ ان کی درخواست پر ٹیلیفونک گفتگو کی۔منگل کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین اور جرمنی کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانا دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے اور یہ درست مشترکہ انتخاب ہے۔ فریقین کو باہمی اعتماد کو بڑھاتے ہوئے چین اور جرمنی کے درمیان گہرے اور مزید مؤثر عملی تعاون کو فروغ دینا ہوگا اور چین-یورپی یونین تعلقات کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چین کا اصول چین -جرمنی تعلقات کی سیاسی بنیاد ہے۔ امید ہے کہ جرمنی چین -جرمنی تعلقات اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا اور دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گا۔
وانگ ای نے نشاندہی کی کہ چین اور یورپی یونین جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، اورفریقین کے درمیان تجارتی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جرمنی ایک معقول اور عملی رویہ برقراررکھتے ہوئے یورپی یونین میں اس بات کوفروغ دینے میں فعال کردار ادا کرے گا کہ یورپی یونین کھلے تعاون اور بات چیت و مشاورت کے درست راستے پرقائم رہے ۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ جرمنی چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو مزید مضبوط کرنے اوردونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان مشاورت کے نئے دور کا منتظر ہےتاکہ فریقین کے درمیان تجارت اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جرمنی ایک چین کے اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے اور اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جرمنی یورپی یونین اور چین کے درمیان بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین اور جرمنی کے درمیان آج طے پانے والا اہم اتفاق رائے یہ ہے کہ چین اور یورپی یونین کے اقتصادی و تجارتی مسائل کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے۔فریقین نے ایران کی صورتحال اور یوکرین کے بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا۔