بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں، امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کا امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی سختی سے مخالفت کرنے کا موقف مستقل اور واضح ہے۔ امریکہ کو ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیوں، خاص طور پر 17 اگست کے اعلامیے کی حقیقی معنوں میں پاسداری کرنی چاہیے اور چین-امریکہ تعلقات کی مستحکم ترقی اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنی چاہیے۔
امریکا کی جانب سے جمی لائی سے متعلق بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے گو جیا کھون نے کہا کہ جمی لائی چین مخالف اور ہانگ کانگ میں بدامنی پھیلانے والے متعدد سنگین واقعات کے اہم منصوبہ ساز اور شریک رہے ہیں۔ ان کے اقدامات نے قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور قانون کے مطابق انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔ ہانگ کانگ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں قانون کی حکمرانی ہے، اور کسی کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سنگین غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ چین کی مرکزی حکومت ہانگ کانگ کی عدلیہ اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔