فریقین کا عملی تعاون طویل عرصے سے گہرا اور مربوط رہا ہے، رپورٹ
بیجنگ (ویب ڈیسک)گزشتہ دنوں چین یورپ تعلقات اقتصادی و تجارتی تنازعات کے باعث دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ پیر کے روز چینی میڈیا کے مطابق یورپی یونین نے ٹھوس شواہد کی کمی کے باوجود نام نہاد ‘روس پر عائد پابندیوں سے بچنے’ کے بہانے 29 چینی متعلقہ اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا، جو حالیہ برسوں میں یورپی یونین کی جانب سے چین پر ایک ہی مرحلے میں عائد کی جانے والی سب سے بڑی پابندی ہے۔ اس کے جواب میں، چینی حکومت نے جوابی اقدامات اٹھاتے ہوئے سات یورپی اداروں کو، جنہوں نے طویل عرصے سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرکے چین کے مرکزی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، چین کے برآمدی کنٹرول کی فہرست میں شامل کر دیا۔
چین نے معقولیت اورتحمل کا مظاہرہ کرتےہوئے اپنی حد بندی میں استقامت دکھائی، جس کا مقصد عدل و انصاف نیز چین-یورپ تعاون کے وسیع تر منظر نامے کی حفاظت کرنا ہے، اور اس سے نئے دورمیں چینی سفارتکاری کے اسٹریٹجک عزم اور بڑی طاقت کے ذمہ دارانہ کردار کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔دیکھنے میں چین پر یورپی یونین کی پابندیوں کا مقصد نام نہاد روس کے خلاف "پابندیوں کی تاثیر” کو برقرار رکھنا ہے، درحقیقت یہ مسئلے کی اصل وجہ کو نظرانداز کرکے الزام تراشی کرنے کی ایک اور زندہ مثال ہے۔ اپنی پالیسی کی غلطیوں اور اندرونی حکمرانی کے مسائل کے پیش نظر ، یورپی یونین نے اپنے ساختی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے تجارتی اور اقتصادی مسائل کو سیاسی رنگ دےکر چین کو "مسئلہ” قرار دیتے ہوئے اسے محدود کیا ہے ،یکطرفہ پابندیاں عائد کی ہیں اور "لانگ آرم کا دائرہ اختیار” نافذ کیا ہے۔ الزام تراشی اور ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کی یہ کوشش نہ صرف معروضی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور آزاد تجارت کی روح کی خلاف ورزی کرتی ہے بلکہ فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کی بنیاد کو بھی بری طرح نقصان پہنچاتی ہے جسے چین اور یورپ نے کئی سالوں میں استوار کیا ہے۔
چین نے ایکسپورٹ کنٹرول قانون جیسے قوانین و ضوابط پر سختی سے پابند رہتے ہوئے جو جوابی اقدامات اٹھائے ہیں، وہ مخصوص خلاف ورزی کرنے والے اداروں تک محدود ہیں بلکہ چین نے یورپی یونین کو صورتحال سے پیشگی آگاہ کرکے پوری طرح سے تحمل کا مظاہرہ کیا، جو پابندیوں اور الزام تراشی کو ترجیح دینے کے طرز عمل کے بالکل برعکس ہے۔چین اور یورپ اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہیں اور فریقین کا عملی تعاون طویل عرصے سے گہرا اور مربوط رہا ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو ٹھوس فوائد پہنچے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں، چین اور یورپ کے درمیان اشیاء کا تجاری حجم 5.93 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا، جو کہ سال بہ سال 6 فیصد کا اضافہ ہے، اور یوں دونوں ایک دوسرے کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار بن گئے۔ دو طرفہ سرمایہ کاری 280 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، اور چین-یورپ مال بردار ٹرین سروس 26 یورپی ممالک کے 232 شہروں تک پہنچ گئی۔
بقول یورپی یونین کے لئے چین کے سفیر چائی رن، 2025 میں یورپ میں چین کی براہ راست سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 40فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا، سبز اور ڈیجیٹل شعبوں میں تعاون میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ چینی کمپنی سی اے ٹی ایل اور اسپین کے سٹیلانٹس نے مشترکہ طور پر یورپ کی نئی توانائی کی منتقلی میں مدد کے لیے ایک سپر بیٹری فیکٹری قائم کی ہے۔ چین کے اسٹیٹ انرجی گروپ نے یونان میں تھریس ونڈ پاور پراجیکٹ مکمل کر لیا ہے، جو چین-یورپی سبز تعاون کا نمونہ بن گیا ہے۔ اور "مسکراتی سیٹلائٹ”، جو چین اور یورپ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، خلائی ٹیکنالوجی کے تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے، لانچنگ کے عمل میں داخل ہو چکا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز کے چار سالوں میں چین کے چار دوروں نے چین کے ساتھ عملی تعاون کے ایک معیاری نمونے کو فروغ دیا ہے ، جو مزید یورپی ممالک کو تصادم کے بجائے بات چیت کا انتخاب کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔چین اور یورپ کے درمیان مفادات کا کوئی بنیادی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کے مرکزی مفادات کا احترام کرتے ہوئے کثیرالجہتی کو برقرار رکھنا چاہیےتاکہ مشترکہ طور پر دنیا میں استحکام فراہم کیا جائے۔
فی الحال، یورپی یونین کے اندر بلاک تصادم کی بازگشت مسلسل سنائی دے رہی ہے، وہ چین کے ساتھ اپنے تعاون کو خود "مسئلہ” بناتے ہیں اور معمول کی مسابقت کو "دھمکی” قرار دیتے ہیں، اور اپنی پالیسی کی خامیوں کو چھپانے کے لیے الزام تراشی کا انتخاب کرتے ہوئے بات چیت اور مشاورت کی جگہ یکطرفہ پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف چینی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ صنعتی لاگت میں اضافہ کرکے یورپ کے اپنے مفادات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ درحقیقت، چین اور یورپ سبز تبدیلی، مصنوعی ذہانت، اور عالمی گورننس سمیت بہت سے شعبوں میں انتہائی تکمیلی تعاون کے حامل ہیں، اور یہ تعاون اختلافات سے کہیں زیادہ ہے۔الزام تراشی اور ذمہ داری سے پہلو تہی کرنا،تقسیم کو بڑھاتا ہے اور باہمی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ یہ نہ صرف یورپی یونین کے اپنے مسائل کو حل کرنے میں مددگار نہیں ہے بلکہ باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کی مجموعی صورتحال کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے، جبکہ عقلی بات چیت اور مساوی مشاورت صحیح راستہ ہے۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین-یورپی یونین اقتصادی وتجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابیوں پر مبنی ہے اور یہ کہ ترقی کے دوران ایک متحرک توازن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ باہمی انحصار کوئی خطرہ نہیں ہے، اور نہ ہی آپس میں جڑے ہوئے مفادات کوئی دھمکی ہیں۔ ہمیں چین یورپ جامع تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھنے اور چین یورپ تعلقات کے لیے مشترکہ طور پر روشن مستقبل کی تخلیق کو آگے بڑھانا ہو گا۔بدلتے ہوئے پیچیدہ بین الاقوامی ماحول کے پیش نظر، چین اپنے اصولوں اور بنیادی خطوط پر کاربند رہتے ہوئے بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے اور تنازعات کو تعمیری انداز میں سنبھالتا ہے۔ چین یورپ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کا تعلق نہ صرف دونوں فریقوں کے عوام کی فلاح و بہبود سے ہے بلکہ عالمی اسٹرٹیجک استحکام اور اقتصادی عالمگیریت کے رجحان سے بھی ہے۔ محض بے بنیاد الزام تراشی اور ذمہ داری سے پہلو تہی کو بند کرکے باہمی احترام اور جیت جیت پر مبنی تعاون کو برقرار رکھنے سےہی چین-یورپ جامع اسٹریٹجک شراکت داری رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے، مستقل طور پر آگے بڑھ سکتی ہے، اور مشترکہ طور پر ایک ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا میں مزید استحکام اور مثبت توانائی فراہم کر سکتی ہے۔