چین کی ترقی اور تبدیلی بے مثال اور ناقابل یقین ہے ، سیکرٹری جنرل عرب لیگ

چین کبھی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، احمد ابوالغیط

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی سترویں سالگرہ کے موقع پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ہفتہ کے روز انٹرویو میں احمد ابو الغیط نے کہا کہ وہ پہلی بار 1990 میں چین آئے تھے ۔ چین کی ترقی اور یہاں ہونے والی تبدیلی بے مثال اور ناقابل یقین ہے جو چین کے رہنماؤں اور پوری چینی عوام کی بھر پور کوششوں کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین کبھی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی تعاون کے تعلقات میں یکطرفہ مطالبات پر زور دیتا ہے۔

چین عرب دوستی برابری اور خلوص پر مبنی دوستی ہے جو چین اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کی بنیادی خصوصیت ہے۔ احمد ابوالغیط نے چین اور عرب ممالک کے درمیان موجودہ دوستی کو مضبوط ، قریبی تعاون، اور امید افزا امکانات کے طور پر بیان کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عرب لیگ نے چین کے ساتھ تعاون پر مبنی گہرے تعلقات قائم کیے ہیں۔ 2004 میں عرب لیگ اور چین کی جانب سے چین-عرب ریاستوں کے تعاون کے فورم کا قیام ہوا اور اب دونوں فریق ہر دو سال بعد اس کا وزارتی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔

پہلا چین-عرب سربراہی اجلاس دسمبر 2022 میں سعودی عرب میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا اور دوسرا چین-عرب سربراہی اجلاس 2026 میں بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مزید عرب رہنما چین میں جمع ہوں گے تاکہ چین اور عرب ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کی اس طویل مدتی اور پائیدار ترقی کو حاصل کریں جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تمام عرب ممالک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں فعال طور پر شامل ہیں ، اس کے شراکت دار ہیں، اور اس انیشی ایٹو کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ براہ راست تعاون کر رہے ہیں۔

Comments (0)
Add Comment