چین، ٹیکنالوجی نے اسپرنگ فیسٹیول کے سفر کو مزید پر سکون بنا دیا ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین میں 40 روزہ "اسپرنگ فیسٹیول سفری سیزن” کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ سالانہ بنیادوں پر ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی انسانی نقل مکانی کے طور پر، ہر سال اس موقع پر کروڑوں چینی شہری، چاہے وہ کہیں بھی ہوں، سب کچھ چھوڑ کر اپنے آبائی گھروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اہلِ خانہ کے ساتھ چین کے سب سے اہم روایتی تہوار، یعنی اسپرنگ فیسٹیول کی خوشیاں منا سکیں۔متعلقہ اداروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس سال اسپرنگ فیسٹیول سفری سیزن کے دوران ملک بھر میں ریلوے سے 540 ملین مسافروں کی آمد و رفت متوقع ہے ، یعنی روزانہ اوسطاً 13.48 ملین مسافر۔ اس وسیع انسانی نقل و حرکت کے پس منظر میں ایک ہمہ جہت اور جدید اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام کارفرما ہے، جہاں فیس ریکگنیشن کے ذریعے پلک جھپکتے داخلہ، اے آئی پر مبنی ٹکٹ ویٹنگ سسٹم، ذہین معائنہ روبوٹس اور ہولوگرافک نیویگیشن جیسی ٹیکنالوجیز اسپرنگ فیسٹیول کے سفری تجربے کو غیر معمولی حد تک تبدیل کر رہی ہیں۔

جینان ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ ہال میں داخل ہوں تو متعدد مسافر ان مسلسل حرکت میں رہنے والے انٹیلی جنٹ انسپیکشن روبوٹس کو دیکھ کر رک جاتے ہیں۔ یہ چھوٹے مگر مؤثر "الیکٹرانک محافظ” تھرمل امیجنگ آلات اور فائیو جی ٹرانسمیشن سسٹمز سے لیس ہیں، جو ہر سیکنڈ میں 200 مربع میٹر علاقے کا معائنہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مشتبہ اشیا یا جسمانی درجۂ حرارت میں اچانک تبدیلی کو فوراً شناخت کر لیتے ہیں۔ اس وقت چین کے 87 بڑے ریلوے مراکز میں ایسے روبوٹس تعینات کیے جا چکے ہیں، جن کی بدولت مسافروں کی گمشدہ اشیا کی بازیابی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔چین کے مختلف بڑے ٹرانسپورٹ مراکز میں جدید ٹیکنالوجی اسپرنگ فیسٹیول کے سفر کو مزید ہموار، محفوظ اور پرسکون بنا رہی ہے۔

شن زن نارتھ اسٹیشن پر اپ گریڈ شدہ فیس ریکگنیشن سسٹم محض 0.3 سیکنڈ میں شناخت مکمل کر لیتا ہے، حتیٰ کہ ماسک پہننے کی صورت میں بھی درست شناخت ممکن ہے۔ بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والے والدین کو ایک ہی بار تصدیق کے بعد بچوں سمیت داخلے کی سہولت مل جاتی ہے، جس سے بار بار کوڈ اسکین کرنے اور قطار میں کھڑے ہونے کی زحمت ختم ہو جاتی ہے۔ شنگھائی ہونگ چھیاؤ اسٹیشن پر نصب ملی میٹر ویو سیکیورٹی گیٹس بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں، جہاں مسافر صرف دو سیکنڈ کھڑے ہو کر مکمل جسمانی اسکین کروا لیتے ہیں، جو تیز رفتار ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی رازداری کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔ہانگ چو ایسٹ اسٹیشن پر "لگج روبوٹ” سروس آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرائی گئی ہے۔ مسافر کوڈ اسکین کے ذریعے بکنگ کرتے ہیں، جس کے بعد ذہین روبوٹ خودکار انداز میں بھاری سامان مقررہ ڈبے تک پہنچا دیتا ہے، یوں مسافروں کو بھاری سوٹ کیس گھسیٹنے کی دشواری سے نجات ملتی ہے۔

اس کے علاوہ، اسٹیشن میں نصب مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے بزرگوں، بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مسافروں کی خودکار شناخت کر لیتے ہیں اور فوری طور پر رضاکاروں کو مدد کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔ ننگ بو اسٹیشن پر ایک سماعت سے محروم مسافر کے ٹرین چھوٹ جانے پر رضاکاروں نے اسمارٹ ہینڈ رائٹنگ بورڈ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا اور بصری معاون آلات کی مدد سے اس کا ٹکٹ کامیابی سے بعد کی ٹرین کے لیے تبدیل کروا دیا۔علاوہ ازیں ،کچھ اسٹیشنوں پر اسمارٹ گائیڈ ڈاگز بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو زبانی ہدایات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، رکاوٹوں سے خود بخود بچتے ہیں اور بصارت سے محروم مسافروں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں، تاکہ وہ بھی اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔آج ، چین کے 78 فیصد بڑے ٹرانسپورٹ مراکز میں انٹیلی جنٹ سیکیورٹی چیک سسٹمز نصب ہیں، جبکہ 65 فیصد ہوائی اڈوں پر سامان کی مکمل ٹریکنگ ممکن ہو چکی ہے۔

یہ تمام تکنیکی سہولیات خاموشی سے ہجوم اور بے چینی کو کم کر رہی ہیں اور سفر کو زیادہ آرام دہ اور سہل بنا رہی ہیں، جس سے گھر واپسی کا سفر زیادہ آرام دہ اور آسان ہو گیا ہے۔چین سے ناواقف دوستوں کے لیے اسپرنگ فیسٹیول کا سفری منظر شاید اجنبی ہو، مگر اس کے پیچھے کارفرما خاندانی ملاپ کی آرزو ایک آفاقی انسانی جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کی اصل اہمیت یہی ہے کہ وہ اس ملاپ کے سفر میں مشکلات کم کرے اور گرمجوشی میں اضافہ کرے۔ بلاشبہ، ان انٹیلی جنٹ آلات اور جدید ٹیکنالوجی کے پیچھے، بے شمار کارکنان اور رضاکاروں کی مسلسل محنت بھی شامل ہے۔ ٹیکنالوجی محض ایک ذریعہ ہے، جبکہ لوگوں کے محفوظ اور پُرسکون سفر کو یقینی بنانا اسپرنگ فیسٹیول کے سفر کی وہ مستقل روح ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

Comments (0)
Add Comment