گانے "گو ایسٹ” کی مقبولیت: نوجوانوں کی مغربی تصورات پر نظرِ ثانی اور نظریاتی تشکیلِ نو

بیجنگ (ویب ڈیسک) حال ہی میں بیجنگ کے سنہ 2000 کی دہائی میں پیدا ہونے والے چند نوجوانوں پر مشتمل بینڈ "اننو کڈز” کے انگریزی گانے”گو ایسٹ” (مشرق کی طرف جاؤ) نے انٹرنیٹ پر مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ گانا برطانوی بینڈ پٹ شاپ بوائز کے پرانے گانے "گو ویسٹ” (مغرب کی طرف جاؤ) سے ماخوذ ہے جس میں اصل گانے کی دھن کو برقرار رکھتے ہوئے نئے بول شامل کیے گئے ہیں۔ یہ بول مغربی نظاموں کے بارے میں مشرقی نوجوانوں کے شکوک و شبہات اور تنقیدی خیالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ گانا نوجوان نسل کے مغربی بیانیے کے جادو سے آزاد ہونے اور اقدار کے نئے تصورات تشکیل دینے کی ایک واضح علامت بن گیا ہے۔1993ء میں برطانوی بینڈ پٹ شاپ بوائز کا گانا "گو ویسٹ” سوویت یونین کے انہدام اور برلن وال کے گرنے کے تاریخی پس منظر میں تخلیق کیا گیا تھا جس میں مغربی جمہوری نظام کی فتح کا جشن منایا گیا ہے اور مشرقی لوگوں کو "آزاد دنیا کی طرف ہجرت” کی دعوت دی گئی ہے۔

اس گانے کو سرد جنگ کے بعد مغربی نظریاتی فتح کی ثقافتی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تین دہائیوں بعد، چینی نوجوانوں کی جانب سے اسی دھن کو ایک بالکل مختلف مفہوم دے دیا گیا ہے جو اب مغربی بیانیے کی بالادستی کے خلاف ایک ثقافتی ردعمل ہے، اور یہ خود ایک پر معنی تاریخی مکالمے کی حیثیت رکھتا ہے۔مشرق کی طرف جاؤ، یہاں زندگی پُر سکون اور پرامن ہےمشرق کی طرف جاؤ، یہاں خوف کا کوئی سایہ نہیں ہےمشرق کی طرف جاؤ، یہاں لوٹ مار نہیں ہےمشرق کی طرف جاؤ، یہی تمہاری آزادی کی سرزمین ہےہاتھوں میں ہاتھ ڈالو، خواتین رات گئے سڑکوں پر بلا خوف گھوم سکتی ہیںہاتھوں میں ہاتھ ڈالو، شہر کی روشنیاں نرم و شفاف ہیںہاتھوں میں ہاتھ ڈالو،یہاں اپنے دفاع کے لئے گولیوں کی ضرورت نہیں ہےہاتھوں میں ہاتھ ڈالو، روح کو سکون کا گھر ملے گا”گو ایسٹ” کے بول مختلف پہلوؤں سے مغربی ماڈل پر تنقید اور متبادل تصورات پیش کرتے ہیں۔”ایک ساتھ مل کر آسمان تلے محفوظ رہو/ ایک ساتھ مل کر بندوقوں کو الوداع کہو” نہ صرف اصل گانے کے اجتماعیت پسندانہ بیانیے کی بازگشت ہے بلکہ انفرادی آزادی سے آگے بڑھ کر اجتماعی تحفظ اور امن پر زور دیتا ہے۔

"مشرق کی طرف جاؤ، یہاں کوئی لوٹ مار نہیں ہے/ مشرق کی طرف جاؤ، یہیں تم آزاد ہو "براہ راست مغربی معاشروں میں بڑھتے ہوئے سماجی اور قانونی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے”آزادی” کی تعریف کو نئی شکل دیتا ہے—یہ محض سیاسی حقوق ہی نہیں بلکہ خوف اور تشدد سے آزادی کا بنیادی معاملہ بھی ہے۔اننو کڈز بینڈ نے تخلیقی وضاحت میں روایتی مغرب مخالف بیانیے سے ہٹ کر ایک متوازن موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ وہ”امریکہ مخالف نہیں” ہیں بلکہ وہ "اجارہ داری، دوہرے معیارات، نظریاتی نفوذ” اور "نام نہاد دانشوروں کے وطن دشمن اور عقل دشمن رویے” کے خلاف ہیں۔ یہ فرق خصوصی طور پر قابل توجہ ہے: وہ مغرب کی ہر چیز کو بلاامتیاز مسترد نہیں کرتے بلکہ مغربی بیانیے کی بالادستی، دوہرے معیارات اور نظریاتی نفوذ پر تنقید کرتے ہیں۔ بینڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ”چین کے مبالغہ آمیز مداح نہیں” بلکہ حقائق پر مبنی مبصر ہیں اور ان کا یقین ہے کہ”چینی تہذیب کی کچھ خصوصیات دنیا کے لیے روشنی کا مینار بننے کی زیادہ حق دار ہیں”۔ یہ ثقافتی اعتماد اندھا گھمنڈ نہیں بلکہ اپنی تہذیب کی گہری سمجھ پر مبنی عقلی فیصلہ ہے۔”گو ایسٹ” کی مقبولیت کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں، لاطینی امریکہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک، افریقہ سے لے کر مشرق وسطیٰ تک، زیادہ سے زیادہ نوجوان نیولبرل گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والی امیر غریب کے درمیان وسیع خلیج، معاشرتی تقسیم اور ثقافتی تصادم پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ مغربی جمہوری نظام اور آزاد مارکیٹ کا ماڈل اب ترقی کا واحد قابل تقلید راستہ نہیں رہا۔ خصوصاً 2008ء کے مالیاتی بحران، کووڈ-19 وبا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کے تناظر میں ، مختلف ممالک کے حکمرانی کے ماڈلز کا موازنہ براہ راست عالمی عوام کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔چین نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جو معاشی و سماجی ترقی کے کارنامے انجام دیے ہیں، وہ اس تنقیدی سوچ کے لیے ایک حقیقی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔یعنی چین بلا سوچے سمجھے مغربی ماڈل کی نقل کرنے کے بجائے اپنے مخصوص حالات کے مطابق ترقی کا راستہ تلاش کرتا ہے،نظریات کی برآمد نہیں بلکہ ترقی کے تجربات کا اشتراک کرتا ہے۔اننو کڈز بینڈ نے اس گانے کو” جھوٹے مغربی نظریاتی جادو کے خلاف مزاحمت” قرار دیا ہے، جو آج کی عالمی نظریاتی مقابلے کی نئی شکل کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ روایتی سیاسی پروپیگنڈا نہیں بلکہ ثقافتی مصنوعات، پاپ موسیقی، اور سوشل میڈیا کے ذریعے خیالات کا تبادلہ اور مقابلہ ہے۔ بینڈ نے جان بوجھ کر یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اسے بیرون ملک پھیلانے کی کوشش کی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ چین کی نوجوان نسل عالمی افکار کے میدان میں خود سے موضوعات طے کرنے اور بیانیے کے مقابلے میں حصہ لینے کی صلاحیت اور خواہش رکھتی ہے۔ یہ ثقافتی اظہار اب روایتی ثقافت کی سادہ نمائش نہیں رہا بلکہ عالمی مسائل کے تناظر میں نوجوانوں کی زبان اور انداز میں اپنے نظریات پیش کرنے کی کوشش ہے ۔ "اسرائیل کے اوپر آتش بازی” سے لے کر”گو ایسٹ” تک، اننو کڈز بینڈ جیسے نئے دور کے ثقافتی تخلیق کار ایک ایسے ثقافتی اظہار کی تشکیل کر رہے ہیں جو چینی حقیقتوں میں ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی نقطہ نظر بھی رکھتی ہے۔”گو ایسٹ” کی مقبولیت ایک اشارہ ہے جو گہرے عالمی تصورات کی نئی تشکیل کے آغاز کی پیش گوئی کرتا ہے۔

مغربی بیانیے کی بالادستی اب کوئی فطری اور مسلمہ بات نہیں رہی، مختلف تہذیبوں اور ترقی کے مختلف راستوں کے درمیان مساوی مکالمہ ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض "مشرق کا عروج اور مغرب کا زوال” نہیں بلکہ کثیر الجہتی پر مبنی جدیدیت کی دوبارہ دریافت، عالمی گورننس سسٹم اور ثقافتی بیانیے کے نظام کی نئی تشکیل ہے۔دھن وہی ہے، بول بدل گئے ہیں، یہ نہ صرف موسیقی کی تبدیلی ہے بلکہ عہد کے تصورات کی تبدیلی بھی ہے۔ عالمی نوجوان نسل کی مغربی نظام پر تنقیدی لہر میں، "گو ایسٹ” محض ایک آغاز ہے، گہری تصوراتی تشکیل اور تہذیبی مکالمہ تاریخ کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ جاری و ساری رہے گا۔

Comments (0)
Add Comment