چین روس کے ساتھ مل کر عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تیار ہے ، چینی وزیراعظم
سینٹ پیٹرزبرگ :چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی ملاقات ہوئی۔جمعرات کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے سربراہان مملکت نے دو بار ملاقات کی اور چین روس تعلقات اور تعاون کو گہرا کرنے کا نیا خاکہ تیار کیا۔ چین روس کے ساتھ مل کر توانائی ، تجارت و سرمایہ کاری اور نقل و حمل سمیت دیگر شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنےکے لئے تیار ہے تاکہ مزید زیادہ مثبت ثمرات حاصل ہوں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی میں بھی اضافہ ہو۔ لی چھیانگ نے کہا کہ چین اہم امور پر روس کے ساتھ تبادلے اور روابط کو مضبوط بنانے، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے کثرالجہتی پلیٹ فارم پر تعاون کو گہرانے کا خواہاں ہے تاکہ گلوبل ساؤتھ کی مزید قوتوں کو متحد کرتے ہوئے مشترکہ مفادات اور عالمی مساوات کا تحفظ کیا جا سکے۔پوٹن نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ روس چین وزرائے اعظم کی ملاقات کے نظام نے اپنے قیام کے 30 برسوں سے دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو گہرا اور عملی بنایا ہے ۔ چین ماضی میں بھی روس کا سب سے قریبی اور قابل اعتماد شراکت دار رہاہے اور حال اور مستقبل میں بھی اس تعلق میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی آئے گی ۔روسی صدر نے کہا کہ روس چین کے ساتھ مل کر عملی تعاون اور عوامی تبادلے کو فروغ دینے کے لئے تیار ہے۔ رواں سال اپیک کے رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کی میزبانی اور اگلے سال برکس کی صدارت پر روس چین کی حمایت کرتا ہے۔
