چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کا معیار بہت بلند ہے، نوبل انعام یافتہ سائنسدان
بیجنگ :نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان کونسٹنٹن نوووسیلوف نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا مشاہدہ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بین الاقوامی سائنسی تحقیقی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔چین میں گریفین سے متعلق سائنسی تحقیق میں دس سال سے زائد عرصے تک گہری شمولیت کے دوران نوووسیلوف نے چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا مشاہدہ کیا اور چینی نوجوان سائنس دانوں کی تربیت میں بھی حصہ لیا۔ اسی بنا پر انہیں 2020 اور 2021 میں چینی حکومت کی جانب سے "فرینڈشپ ایوارڈ” سے نوازا گیا، جبکہ 2023 میں انہیں چینی اکیڈمی آف سائنسز کا غیر ملکی رکن منتخب کیا گیا۔نوووسیلوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور بیٹریوں سمیت مختلف شعبوں میں چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کا معیار بہت بلند ہے اور برقی گاڑیوں کا شعبہ بھی عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین نے قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق چین میں ٹیکنالوجی کی جدت کا عمل کافی پہلے شروع ہو چکا تھا، خصوصاً تیرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو بہت اہمیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے چینی ساتھیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ چین کی متعلقہ پالیسیوں کے نتیجے میں ٹھوس تکنیکی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
