بیجنگ (ویب ڈیسک) سی جی ٹی این کے ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق 74.6 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ ایس سی او مختلف نظام رکھنے والے ممالک کے لیے تعاون کا ایک حقیقی ذریعہ فراہم کرتی ہے اور نئے بین الاقوامی تعلقات اور انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل میں ایک اہم قوت بن رہی ہے۔
رائے دہندگان کا خیال ہے کہ تجارتی سہولیات، سرمایہ کاری و مالیاتی تعاون، اور ثقافتی تبادلے و سیاحت سمیت تین اہم شعبوں میں ایس سی او کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 71.7 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ ایس سی او نے "گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کی آواز کو بلند کیا ہے اور زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل میں مدد دی ہے۔سروےمیں شامل شرکا کو توقع ہے کہ ایس سی او بنیادی ڈھانچے اور توانائی، علاقائی سلامتی میں تعاون، اور ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سمیت تین شعبوں میں زیادہ کردار ادا کرے گی۔
شرکا نے ایس سی او ہم نصیب برادری کی تشکیل میں چین کی خدمات کو سراہا۔ ان کی عمومی رائے میں چین علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے، رکن ممالک کے درمیان سلامتی کے تعاون کو آگے بڑھانے، اور ترقیاتی امداد و مالیاتی معاونت فراہم کرنے سمیت تین شعبوں میں سب سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
