بیجنگ (ویب ڈیسک)90 برس قبل، گھاس سے بنے جوتے پہنے ہوئے نوجوانوں کے ایک گروہ نے برف پوش پہاڑوں اور گھاس کے میدانوں کو عبور کیا اور مشکلات سے بھرپور بارہ ہزار کلومیٹر کا ایک طویل سفر طے کیا جو ” لانگ مارچ "کے نام سے مشہور ہے۔ اس سفر کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ "قوم اور ملک کے مفادات سب سے بالا تر ہوتے ہیں اور انصاف کے حصول کا نصب العین ضرور کامیاب ہو گا”۔اس عزم کا منبع ہی سی پی سی کے ابتدائی مشن میں پایا جاتا ہے یعنی "چینی عوام کی خوشحالی اور چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جستجو”۔ اس کے بعد تقریباً ایک صدی کے دوران، ملک کی تعمیر و ترقی، اصلاحات و کھلے پن، غربت کے خاتمے اور سائنسی و تکنیکی تحقیق کے میدانوں میں، چین نے بار بار اسی نوعیت کی روحانی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔
2021میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے صد سالہ یوم تاسیس کے موقع پر، چین کے صدر شی جن پھنگ نے ” کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے روحانی ورثے کے سلسلے ” کا مفہوم پیش کیا۔ اس سلسلے کی ابتدا ہی "چینی عوام کی خوشحالی اور چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جستجو” کے ابتدائی مشن سے ہوتی ہے۔عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد قومی تعمیر کے دور میں، دیگر ممالک کی جانب سے ٹیکنالوجی کی ناکہ بندی کا سامنا کرتے ہوئے، "دو بم اور ایک سیٹلائٹ” اور "جیاؤ یولو جذبے”جیسے جذبات نے نئے چین کو ایک آزاد صنعتی نظام قائم کرنے میں مدد دی۔1978 میں اصلاحات و کھلے پن پر عمل کے بعد، خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر، سیلاب اور زلزلے کا مقابلہ کرنے ، اور خلائی مشنز کی تعمیر کے دوران ابھرتے ہوئے متعدد جذبات نے معیشت کی تیز رفتار ترقی کو فروغ دیا، جس سے عوام کی زندگی بنیادی ضروریات کی تکمیل سے بہتر زندگی کی جانب گامزن ہوئی۔
2012میں نئے دور میں داخل ہونے کے بعد، "کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے” والا غربت کے خاتمے کا جذبہ، حب الوطنی سے سرشار سائنسدانوں کا جذبہ، اور باہمی مفادات پر مبنی "شاہراہِ ریشم کا جذبہ” سائنس و ٹیکنالوجی کی خود انحصاری اور اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو آگے بڑھا رہا ہے، جو ملک کو جدیدیت کے نئے سفر کی جانب گامزن کر رہا ہے۔ہر ایک جذبہ ایک نسل کی طرف سے مخصوص چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے کیے گئے انتخاب اور جواب کا عکاس ہے۔ یہ سب روحانی جذبے مل کر ایک مکمل نظریاتی و اقداری نظام تشکیل دیتے ہیں جسے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے روحانی ورثے کا سلسلہ کہا جاتا ہے ۔ یہ کتابوں میں لکھے ہوئے مبہم تصورات نہیں ، بلکہ گزشتہ ایک صدی میں مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے سی پی سی کی حاصل کردہ روحانی قوت ہے، جو پارٹی کی حکمرانی ، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے قوت محرکہ فراہم کرتی ہے۔
