بیجنگ (ویب ڈیسک) جاپان میں قومی انٹیلی جنس بیورو کے باضابطہ قیام کے حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے کیے گئے ایک عالمی سروے میں بڑی تعداد میں جواب دہندگان نے اسے جاپان کے جنگِ عظیم دوم کے بعد کے انٹیلی جنس نظام میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا ہے۔سروے کے مطابق 86.5 فیصد شرکا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگِ عظیم دوم کے بعد جاپان کے انٹیلی جنس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
83فیصد جواب دہندگان کو خدشہ ہے کہ اس سے علاقائی انٹیلی جنس مسابقت میں اضافہ ہوگا اور خطے کے ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کمزور سیکیورٹی اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔سروے میں 87.6 فیصد افراد نے رائے ظاہر کی کہ یہ اقدام جنگ کے بعد قائم عالمی نظام کی پابندیوں سے نکلنے اور جاپان کی دوبارہ عسکری صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کا ایک اور اظہار ہے۔اس سروے میں دنیا بھر کے 3028 انٹرنیٹ صارفین نے حصہ لیا۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ جاپان کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کو علاقائی امن و استحکام کے تناظر میں تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
