زائد پیداواری صلاحیت” کا بیانیہ بے بنیاد، چین دنیا کیلئے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، چینی میڈیا

0

بیجنگ (ویب ڈیسک) حالیہ برسوں میں بعض مغربی معیشتوں نے چین کی "زائد پیداواری صلاحیت” اور "چائنا شاک 2.0” جیسے بیانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور انہیں مختلف تحفظ پسندانہ اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ چین کی وزارتِ تجارت نے نام نہاد "زائد پیداواری صلاحیت” کے مسئلے پر چین کا مؤقف جاری کیا، جس میں اس معاملے سے متعلق حقائق واضح کرتے ہوئے چین کی پالیسی اور مؤقف کی جامع وضاحت کی گئی ہے۔”زائد پیداواری صلاحیت” کی کوئی عالمی طور پر تسلیم شدہ تعریف موجود نہیں ہے۔ عموماً پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح کو اس کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کے طور پر، 2025 میں چین کے مقررہ حجم سے بالاصنعتی اداروں میں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 74.4 فیصد رہی، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک معقول سطح ہے۔

نام نہاد "صنعتی سبسڈی” کے معاملے پر اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کی متعدد رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دنیا بھر میں صنعتی معاونت کی پالیسیاں مسلسل بڑھتی رہی ہیں۔ تحقیق و ترقی کی سبسڈیز، ٹیکس مراعات اور کم سود پر قرضے ابھرتی ہوئی صنعتوں کی حمایت کے لیے عالمی سطح پر رائج طریقے ہیں۔ چین ہمیشہ عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کی سختی سے پابندی کرتا رہا ہے اور سبسڈی سے متعلق اپنی پالیسیوں کو مسلسل معیاری، شفاف اور منظم بناتا رہا ہے۔ مزید یہ کہ متعدد چینی صنعتوں نے حکومتی سبسڈی پر انحصار کرنے کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے تکنیکی ترقی اور عالمی برتری حاصل کی ہے۔

تجارتی اشیاء کے سرپلس کے حوالے سے بھی حقائق مختلف ہیں۔ چین کو خدمات کی تجارت اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شعبوں میں خسارے کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر چین کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جی ڈی پی کا تقریباً 3.7 فیصد ہے، جو بین الاقوامی سطح پر ایک معقول حد تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض مغربی معیشتوں کو درپیش ترقیاتی مشکلات کئی عوامل کے مجموعے کا نتیجہ ہیں، جن میں عالمی صنعتی سپلائی چین کی ازسرِنو تشکیل، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ان کی اپنی سست رفتار اصلاحات شامل ہیں اور یہ ہر گز چین کی صنعتی ترقی کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اس کے برعکس، چین اپنی وسیع منڈی، مضبوط صنعتی بنیاد اور مسلسل تکنیکی جدت کے ذریعے دنیا کے لیے مزید ترقیاتی مواقع پیدا کر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.