امریکہ دوہرے معیار کا مظاہرہ کر رہا ہے، چینی وزارتِ تجارت

0

یہ رویہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں غلبے کی پالیسی کی ایک واضح مثال ہے، ترجمان

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور پابندیاں عائد کرنے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ چین ہمیشہ سے اس بات کی مخالفت کرتا آیا ہے کہ امریکہ سائنس و ٹیکنالوجی اور اقتصادی و تجارتی امور کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے، بے بنیاد الزامات کے ذریعے چینی کمپنیوں کو بدنام کرے اور ان پر پابندیاں عائد کرے۔

امریکہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے کہ چینی مصنوعی ذہانت کے متعدد لارج ماڈلز کی ریلیز امریکی جدید ماڈلز کے تقریباً اسی عرصے میں ہوئی، جبکہ بعض چینی ماڈلز کی صلاحیتیں پہلے ہی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ چینی کمپنیوں پر نام نہاد "ماڈل ڈسٹلیشن” اور "امریکی دانشورانہ املاک کی چوری” جیسے الزامات عائد کر کے ان کے خلاف دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ تو حقائق پر مبنی ہیں، نہ ہی ان کے لیے کوئی قانونی جواز موجود ہے، جبکہ عملی طور پر امریکہ دوہرے معیار کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ رویہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں غلبے کی پالیسی کی ایک واضح مثال ہے۔ترجمان نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینا بند کرے۔ اگر چین کے مفادات کو کسی بھی عملی اقدام کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو چین اپنے جائز اور قانونی حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.