متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائج

0

چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے

بیجنگ (ویب ڈیسک)امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق متعدد ممالک کے عوام کی نظر میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔ سروے کے مطابق کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا رجحان سامنے آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور طرزِ حکمرانی کو بین الاقوامی برادری میں مسلسل وسیع پذیر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔اس سروے میں 36 ممالک اور خطوں سے 42 ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر تاریخی طور پر امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔

امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک، جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، وہاں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے چین کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں چین زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین کو استحکام کی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق شامل 36 ممالک اور خطوں میں سے 27 میں عوام کی چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جن میں امریکہ کے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو بھی شامل ہیں۔اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔

ایک جانب عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے بارے میں رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جیسے اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد یہ سمجھنے لگے کہ امریکہ عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تعداد میں جواب دہندگان نے چین کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ چین عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.