چین روس تعلقات کی اہمیت دو طرفہ دائرہ کار سے کہیں آگے ہے، چینی میڈیا

0

دونوں ممالک کا تعلق بدلتی ہوئی دنیا میں ایک کریٹیکل کانسٹنٹ بن رہا ہے، رپورٹ

بیجنگ (ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 19 سے 20 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران نمایاں نتائج حاصل ہوئے۔ دونوں سربراہان مملکت نے کئی اہم مسائل پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا اور چین روس جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے نئے اہم اتفاق رائے پر پہنچے۔ چین روس تعلقات کی اہمیت اور اثر دو طرفہ دائرہ کار سے کہیں آگے ہے، جو ” بدلتی ہوئی دنیا میں ایک کریٹیکل کانسٹنٹ” بن رہا ہے۔ اس سال چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کے قیام کی 30 ویں سالگرہ اور چین اور روس کے درمیان خوشگوار ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

ایک ہنگامہ خیز دنیا میں، چین اور روس ” کریٹیکل کانسٹنٹ ” کے طور پر اپنا کردار کیسے بہتر انداز میں ادا کر سکتے ہیں؟ "اعلیٰ معیار کا سیاسی باہمی اعتماد قائم کرکے باہمی تزویراتی تعاون کو مضبوط کیا جائے،” "اعلیٰ معیار کے باہمی فائدہ مند تعاون کو تقویت دے کر اپنی اپنی ترقی اور احیاء کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کیا جائے،” "عوام کے درمیان اعلیٰ معیار کے تبادلوں کو فروغ دے کر نسل درنسل دوستی کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے” اور ” اعلیٰ معیار کے عالمی تعاون کے ذریعے گلوبل گورننس کو بہتربنایا جائے”—چینی صدر شی جن پھنگ کے اہم بیانات نے چین روس تعلقات کی نئی ترقی کی راہ کی نشاندہی کی ہے۔

صدر پیوٹن نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور چین کے ساتھ شراکت داری اورخوشگوار ہمسائیگی کو گہرا کرکے مشترکہ طور پر عالمی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔دونوں ممالک کی جانب سے دنیا میں کثیر قطبی نظام اور نئی طرز کے بین الاقوامی تعلقات کے فروغ سے متعلق جاری کردہ مشترکہ بیان، بڑی طاقتوں کے مشن اور ذمہ داری کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔

توقع کی جا سکتی ہے کہ چین اور روس اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط کریں گے، تمام یکطرفہ غنڈہ گردی اور تاریخ کے دھارے کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی مخالفت کریں گے اور مشترکہ طور پر ایک زیادہ منصفانہ اور معقول گلوبل گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دیں گے۔ ایک نئے نقطہ آغاز پر کھڑے ہو کر چین اور روس دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق کے مطابق "بدلتی ہوئی دنیا میں کریٹیکل کانسٹنٹ” کے طور پر اپنے کردار کو زیادہ مضبوطی سے نبھائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.