چین کی معیشت کا نئے سال میں خوش آئند آغاز

0

چین کی ہائی ٹیک صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 13.1فیصد اضافہ

بیجنگ (ویب ڈیسک) رواں سال کے ابتدائی دو ماہ کے لئے چین کی معاشی کارکردگی کی صورت حال سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صنعت، صارفین، سرمایہ کاری، غیر ملکی تجارت اور دیگر اہم اقتصادی اشارے واضح طور پر بحال ہوئے ہیں، معیشت نے مستحکم آغاز کیا ہے، اور سالانہ ترقی کے ہدف کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد رکھی ہے۔یوں چین کی معیشت نے ‘خوش آئند آغاز’ حاصل کیا ہے، لیکن اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے پیچھے چین کی اقتصادی بنیاد کی مضبوطی اور وسیع منڈی کی حقیقی طاقت کارفرما ہے۔چین کا یہ "استحکام” اعلیٰ معیار کی ترقی کی بنیاد پر قائم ہے۔ ‘پندرہویں پانچ سالہ منصوبے’ کے خاکے میں اعلیٰ معیار کی ترقی پر عمل درآمد اور اعلیٰ سطح کی سائنسی و تکنیکی خود مختاری کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس پالیسی کے تسلسل اور استحکام نے عالمی سرمایہ کاروں کو واضح توقعات فراہم کی ہیں، اور اس وجہ سے وہ چین میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔کسی بھی معیشت کا جائزہ لیتے وقت ترقی کو آگے بڑھانے والی نئی قوتوں کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس سال کے پہلے دو ماہ میں، چین کی ہائی ٹیک صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 13.1 فیصد اضافہ ہوا، جو عمومی صنعتی ترقی سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں، 3D پرنٹنگ آلات اور صنعتی روبوٹس کی پیداوار بالترتیب 54.1 فیصد اور 31.1 فیصد تک بڑھ گئی۔ یہ اختراع پر مبنی ترقیاتی ماڈل نہ صرف چین کی اقتصادی ساخت کی تبدیلی اور ترقی کو آگے بڑھاتا ہے، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتی ترقی کے لیے بھی تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، پہلے دو ماہ میں چین کی ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ شراکت دار ممالک کے ساتھ درآمد اور برآمد میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ گلوبل ساؤتھ اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ تعاون گہرا ہو رہا ہے، جبکہ تجارتی شراکت داروں کا ڈھانچہ بھی زیادہ متوازن ہوتا جا رہا ہے۔ مستقبل میں، جیسے جیسے ‘پندرہویں پانچ سالہ منصوبے’ کے مختلف امور پر عمل درآمد ہوگا، چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی مزید مستحکم ہوگی اور دنیا کو "چین کے ثمرات” سے مزید فائدہ حاصل ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.