دو اجلاسوں کے موسم میں چین کو سمجھنے کے لیے، "گاؤں گاؤں سڑک” کی تعمیر کے منصوبے پر ایک نظر

0

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کے دو اجلاسوں کا موسم پھر سے شروع ہونے والا ہے، دنیا کی نظریں ایک بار پھر چین پر اور اس ایونٹ پر مرکوز ہو رہی ہیں، جو عوامی توقعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، ترقی کی نقشہ کشی کرتا ہے اور چین کے منفرد نظام کی رمز کو آشکار کرتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ چین کے ترقیاتی معجزے کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔درحقیقت، چین کو سمجھنے کے لیے بڑے بیانیوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ دیہی علاقوں میں جڑیں رکھنے والی، عوام کے مفاد میں مخصوص پریکٹسز سے واضح جوابات مل سکتے ہیں۔ ذیل میں پیش کی جانے والی مثال اسی طرح کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ایک کاروبار ہے جو اگر مغربی کاروباری منطق کے مطابق جانچا جائے تو سراسر گھاٹے کا سودا دکھائی دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ چین نے نہ صرف اسے شروع کیا بلکہ دہائیوں تک جاری رکھا، اس پر کھربوں کی سرمایہ کاری کی، اور یوں ایک خسارے کے منصوبے کو انسانی ترقی کی تاریخ کے ایک حیران کن معجزے میں بدل دیا۔ یہ منصوبہ ہے "گاؤں گاؤں سڑک”۔

چین کے حوالے سے جب بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی بات آتی ہے تو عموماً 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی ہائی اسپیڈ ریل، سمندر پر بنا ہانگ کانگ-جوہائی-مکاؤ طویل پل، یا ووشان پہاڑیوں کے بادل اور بارش کو روکنے والا تھری گورجز ڈیم ، ذہن میں آتے ہیں۔ یہ منصوبے بلاشبہ چین کی ترقی کی بلند ترین حد کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن چین کے انفراسٹرکچر کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ اس نے پورے معاشرے کی بنیادی سطح کو سہارا دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، جو فروری 2026 میں جاری کیے گئے، چین میں دیہی سڑکوں (یعنی ” گاؤں گاؤں سڑک” کی تعمیر کے منصوبے) کی مجموعی لمبائی 4.64 ملین کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک بھر کے تقریباً 30 ہزار قصبوں اور 5 لاکھ سے زائد دیہات تک پکی سڑکیں پہنچ چکی ہیں۔4.64 ملین کلومیٹر کا کیا مطلب ہے؟ یہ فاصلہ خطِ استوا کے گرد 115 چکر لگانے کے برابر ہے۔ یہ سڑکیں انسانی جسم کی باریک خون کی رگوں کی مانند چین کے 96 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے کے ہر کونے تک پھیل چکی ہیں، چاہے وہ دور افتادہ صحرا ہوں یا خطرناک پہاڑی علاقے۔تھوڑا سا پیچھے جائیں تو ، ماضی میں چین کے دیہی علاقوں، خصوصاً مغربی خطوں میں، آمدورفت نہایت دشوار تھی۔ کیا آپ نے "چٹان والا گاؤں” کے بارے میں سنا ہے؟ سیچوان کے لیانگشان کا اتولیئر گاؤں، جو 1,400 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہے، جہاں پرانے وقتوں میں لوگوں کے آنے جانے کا واحد ذریعہ بیل کی ڈوریوں کی سیڑھیاں تھیں، جو واقعی چٹانوں سے لٹکی ہوئی تھیں۔ بچے بغیر کسی حفاظتی انتظام کے 800 میٹر کی بلندی طے کر کے اسکول جاتے تھے، ذرا سی لغزش جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔

اسی طرح صوبہ یوننان کا دریائے نوجیانگ، جہاں پرانے وقتوں میں لوگ دریا پار کرنے کے لیے زِپ لائنز استعمال کرتے تھے، ایک فولادی تار متلاطم دریا کے پار بندھی ہوئی تھی، اور لوگ فولادی تاروں کے سہارے پھسلتے ہوئے پار جاتے تھے۔مقامی لوگوں کے علاج کے لئے ڈاکٹر زِپ لائن پر جاتے تھے، بچے زِپ لائن پر اسکول جاتے تھے—یہ سفر زندگی اور موت کا جوا ہوتا تھا ۔”ایسی جگہوں پر سڑکیں بنانا، مذاق مت کرو”۔ اگر مغربی کاروباری افراد کو دیکھیں، تو وہ کیلکولیٹر لے کر آپ کو ایک حساب دیں گے: ایک گاؤں جہاں صرف چند درجن گھر ہیں، وہاں ایک سڑک بنانے کے لیے کروڑوں یا اربوں روپے درکار ہیں، خالصتاً معاشی حساب سے یہ فائدہ مند نہیں ہو سکتی سے ۔ معاشیات کے نقطہ نظر سے، یہاں سڑک نہیں بنانی چاہیے۔ ان کے نزدیک یہ غربت جغرافیے کی قید ہے ، جسے جغرافیائی تقدیر پسندی کہا جاتا ہے۔لیکن چین مختلف ہے، چین کے پاس ایک ایسا حساب ہے جو مغربی ممالک کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ حساب صرف معاشی نہیں، بلکہ عوامی بہبود کا بھی ہونا چاہیے۔ عوامی بہبود کا حساب یہ ہے: جب تک آپ عوامی جمہوریہ چین کے شہری ہیں، چاہے آپ کسی بڑے پہاڑ کی چوٹی پر رہتے ہوں یا کسی ویران صحرا میں،قومی ترقی کے ثمرات میں شریک ہونے کا حق رکھتے ہیں۔اور پھر معجزہ رونما ہوا: مذکورہ چٹان والے گاؤں میں، وہاں کے 84 غریب گھرانوں کے محفوظ سفر کے لیے، پہلے حکومت نے فولادی زینے کی ایک آسمانی سڑک بنائی، پھر محسوس کیا گیا کہ یہ کافی نہیں ہے، اور براہ راست نقل مکانی کا منصوبہ لاگو کرتے ہوئے سب کو قصبے کی عمارتوں میں منتقل کر دیا گیا۔

دریائے نوجیانگ میں، حکومت نے زِپ لائنز کو پلوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ نافذ کیا، اب نوجیانگ وادی میں، زِپ لائنز صرف سیاحوں کی تفریح تک محدود ہیں، وہاں کے مقامی لوگ پہلے ہی موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں پر سوار ہو کر، کنکریٹ اور فولاد کے بنے بڑے پلوں سے گزر رہے ہیں۔یہ ہے چین: جہاں سرمایہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، وہاں ریاست آگے آتی ہے؛ جہاں مارکیٹ ناکام ہو جاتی ہے، وہاں ریاست ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ اور ہاں ،”گاؤں گاؤں سڑک” صرف ایک منصوبہ نہیں، بلکہ ایک وسیع جامع نظام ہے ، جو نہ صرف سڑکوں، بلکہ بجلی، انٹرنیٹ، پانی اور لاجسٹکس کا بھی رابطہ ہے۔ پہلے پہاڑی علاقوں کی مقامی پیداوار زمین پر سڑ کر ضائع ہو جاتی تھی، اب انٹرنیٹ اور سڑکیں موجود ہیں، کسان صرف ایک موبائل فون کے ذریعے اپنی مقامی پیداوار پورے ملک میں فروخت کر سکتے ہیں۔آخر میں، میں یہ بتانا چاہوں گا کہ یہ سڑکیں سہولیات کے علاوہ عام لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں۔

یہ زندگی کی علامت ہے: پہلے پہاڑی علاقوں میں لوگ کسی ہنگامی بیماری کی صورت حال میں واقعی قسمت کے رحم و کرم پر ہوتے تھے، یا پھر مریض کو لکڑی کے تختوں پر لٹا کر دسیوں کلومیٹر کی پیدل مسافت طے کرتے تھے، اب ایمبولینس براہ راست گھر کے دروازے تک آ سکتی ہے۔ یہ امید کی علامت بھی ہے: پہاڑی علاقوں کے بچوں کے لیے، یہ سڑکیں ان کے لیے پہاڑوں سے باہر نکل کر وسیع دنیا میں جانے کا نقطہ آغاز بھی ہیں۔”گاؤں گاؤں سڑک” یقیناً کوئی ایسی سنسنی خیز خبر نہیں، جسے خلیجی جنگ، افغانستان جنگ، یا مدورو کی گرفتاری جیسی خبروں کی طرح توجہ ملے، بہت سے لوگوں نے اس کے بارے میں سنا بھی نہیں ہے، لیکن اس نے 4.64 ملین کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ، چین کی ترقیاتی تاریخ کا ایک نہایت متاثر کن باب لکھا ہے ، جس کا ایک جملے میں مختصراً خلاصہ یہی ہے کہ: اس ملک میں، کسی ایک شخص کو بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے، کسی ایک گاؤں کو بھی علیحدہ جزیرہ نہیں بننا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.