توانائی کے موجودہ بحران میں چین سب سے بڑا فاتح ہے، جرمن اور برطانوی میڈیا

0

بیجنگ (ویب ڈیسک) جرمن میگزین دی میرر نے "اب مستقبل کی توانائی کے حوالے سے جدوجہد واقعی شروع ہو گئی ہے” کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا، جس میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے نہ صرف توانائی کے سب سے بڑے صارف ممالک ، بلکہ خلیجی خطے میں توانائی پیدا کرنے والے ممالک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

تاہم، اس صورتحال میں چین فاتح ہے، جو بیک وقت توانائی کا سب سے بڑا صارف اور سب سے بڑا پیداواری ملک بھی ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ کے پاس نہ صرف تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو کئی مہینوں کی ناکہ بندی کا مقابلہ کر سکتے ہیں، بلکہ چین قابل تجدید توانائی کے آلات کی عالمی پیداوارمیں بھی ایک رہنما ہے۔

برطانوی اخبار دی فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ چین کی جانب سے توانائی کی پالیسی کی ایڈجسٹمنٹ اسٹریٹجک دور اندیشی پر مبنی ہے۔ 2014 کے موسم گرما میں، چین کے اعلیٰ رہنما نے ملک کے توانائی کے نظام کو مکمل جدید بنانے کی ہدایت دی اور اس کے بعد کے اقدامات کے ایک سلسلے کی بدولت 10 سالوں کے اندر چین قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں ایک رہنما بن گیا۔ صرف 2025 میں، چین کی فوٹو وولٹک پاور جنریشن کی صلاحیت میں 318 گیگا واٹ کا اضافہ ہوا، جو کہ جرمنی اور آسٹریا کی بجلی پیدا کرنے کی مشترکہ صلاحیت، بشمول غیر قابل تجدید توانائی کے ذرائع، سے زیادہ ہے۔

مضمون میں امریکی شہر ہیوسٹن کی رائس یونیورسٹی کے انرجی اور جیو پولیٹکس کے پروفیسر جم کرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کی توانائی سے متعلق نئی ٹیکنالوجیز اور آلات میں "اوور کپیسٹی” نہ صرف غریب ممالک کو فائدہ پہنچاتی ہے، بلکہ یورپ کے لئے بھی "چینی الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی پر انحصار روسی یا امریکی تیل اور گیس پر انحصار سے زیادہ محفوظ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.