چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کا وعدہ دنیا کو کھلے پن کے ثمرات میں شریک کرنا ہے ، چینی میڈیا

بیجنگ :دنیا کی پہلی قومی سطح کی ایسی نمائش ہونے کے ناتے جس کا مرکزی موضوع درآمدات ہیں، چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو چین کے نئے ترقیاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے ایک اہم دریچہ، اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو فروغ دینے کا پلیٹ فارم اور دنیا کے لیے مشترکہ طور پر استفادہ کرنے والی بین الاقوامی عوامی سہولت بن چکی ہے۔ رواں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں نمایاں خصوصیات کی بھرمار رہی۔ 148 ممالک اور خطوں کی 4142 غیر ملکی کمپنیوں نے شرکت کی، جو اب تک کی تمام ایکسپوز کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تقریباً 200 کمپنیاں اور ادارے مسلسل نویں مرتبہ ایکسپو میں شریک ہوئے، جبکہ امریکی کمپنیوں کے لیے مختص نمائش کا رقبہ مسلسل آٹھویں مرتبہ پہلے نمبر پر رہا۔”چینی منڈی میں بڑے مواقع موجود ہیں” اور "یہ عالمی کمپنیوں کے لیے مواقع کا دریچہ ہے” جیسے مثبت تبصرے بین الاقوامی رائے عامہ میں سامنے آئے۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی حیثیت سے چین باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی کھلے پن کی حکمت عملی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔ اس چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے دوران جاری ہونے والی "ورلڈ اوپننس رپورٹ 2026 کے مطابق 1990 سے 2025 تک چین کے اوپننس انڈیکس میں 28.18 فیصد اضافہ ہوا، جو عالمی سطح پر نمایاں اضافے میں شمار ہوتا ہے۔مسلسل نو برس سے جاری "امپورٹ ایکسپو کا وعدہ” اس امر کا گواہ ہے کہ چین "دنیا کی فیکٹری” ہونے کے ساتھ ساتھ کی منڈی” بھی ہے، اور "سپر سیلر” ہونے کے ساتھ ساتھ "سپر خریدار” بھی ہے۔ اس وقت چین مسلسل 17 برس سے دنیا کی دوسری بڑی درآمدی منڈی ہے اور 160 سے زائد ممالک اور خطوں کا اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی درآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22.3 فیصد اضافہ ہوا۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے میں درآمدات و برآمدات کی متوازن ترقی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے "چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کا مسلسل بہتر انعقاد” جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے انتہائی وسیع پیمانے کی چینی منڈی کی صلاحیت کو مزید بروئے کار لایا جائے گا اور دنیا کو مواقع 2.0 سے مزید بہتر انداز میں مشترکہ طور پر استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

Comments (0)
Add Comment