سلامتی کونسل کی اصلاحات کو ترقی یافتہ ممالک کی ضرورت سے زیادہ نمائندگی کے مسئلے کو حل کرنا چاہیئے، چین

بیجنگ :اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے جنرل اسمبلی کے کل رکنی اجلاس میں سلامتی کونسل کی اصلاحات پر نظرثانی کے دوران اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کا بنیادی مقصد ترقی یافتہ ممالک کی ضرورت سے زیادہ نمائندگی کے موجودہ عدم توازن کو دور کرنا ہونا چاہیے۔فو چھونگ نے کہا کہ چین سلامتی کونسل میں ضروری اور معقول اصلاحات کی حمایت کرتا ہے، تاکہ اس کے اختیار اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور وہ بحرانوں اور چیلنجز سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔انہوں نے اصلاحات کے لیے تین بنیادی نکات پر زور دیا۔ ان کے مطابق، سب سے پہلے ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں ان کی آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ بالخصوص افریقہ کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے اور افریقی ممالک کے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر خصوصی اہمیت دی جائے۔ دوسرا اہم اصول تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کا احترام اور اصلاحات کے تمام پہلوؤں پر جامع حل تلاش کرنا ہے، جبکہ تیسرا اصول بین الحکومتی مذاکرات کو اصلاحاتی عمل کا مرکزی ذریعہ برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین موجودہ بین الحکومتی مذاکرات میں تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات تمام رکن ممالک کے مشترکہ مفادات اور اقوام متحدہ کے نظام کی صحت مند ترقی سے ہم آہنگ ہوں۔

Comments (0)
Add Comment