گیرونگ میں انتہائی سطح کا بڑا ریسکیو آپریشن: موت کے شکنجے سے زندگی کو نکالنے کی جدوجہد

بیجنگ (ویب ڈیسک) 26اگست 2026 کو نیپال کی حدود میں برف اور چٹانوں کے ایک بڑے تودے نے دیکھتے ہی دیکھتے تباہ کن مٹی کے تودوں اور سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لی، جس نے چین اور نیپال کی سرحد پر واقع گیرونگ بندرگاہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 5 ستمبر کو شام 6 بجے تک اس تباہی کے نتیجے میں 43 افراد کے جاں بحق ہونے اور 519 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات تھیں ، جن میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔حادثے کے بعد 4 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہمالیہ کی گہری اور دشوار گزار وادیوں میں سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی منقطع تھی، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ، جھیلوں کی شکل میں بننے والی رکاوٹیں، گھنی دھند اور موسلادھار بارش جیسے حالات یکے بعد دیگرے امدادی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے ۔

ایسے انتہائی خطرناک حالات میں چین نے ناممکن دکھائی دینے والے حالات میں زندگیاں بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑے اور غیر معمولی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔متاثرہ علاقے کا قدرتی ماحول غیر معمولی حد تک پیچیدہ تھا ۔ اس آفت سے قبل پیشگی انتباہ کے لیے دستیاب وقت محض چند منٹ تھا۔ مزید یہ کہ آفت کا اصل مرکز سرحد پار تھا، جس کے باعث قدرتی طور پر نگرانی کے نظام میں ایک خلا موجود تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی کارکنوں کی جانوں کو مسلسل ثانوی آفات کا خطرہ بھی لاحق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گیرونگ میں امدادی کارروائیاں عام آفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک تھیں۔ان انتہائی نامساعد قدرتی حالات کے باوجود چین نے بے مثال پیمانے پر امدادی وسائل متحرک کیے اور خشکی، پانی اور فضا تینوں جہتوں سے بیک وقت سرچ اینڈ ریسکیو کا کام شروع کیا۔ جب سڑکیں ابھی بحال نہیں ہوئی تھیں تو امدادی ٹیموں نے پہاڑی راستوں سے 12 گھنٹے کا دشوار گزار سفر طے کرکے متاثرہ علاقے کے مرکزی حصے تک رسائی حاصل کی۔ راستہ بحال ہونے کے بعد متعدد خصوصی امدادی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے مختلف سطحوں پر منظم تلاش کے ذریعے ہر گوشہ چھان مارا اور اس حوالے سے کوئی زاویہ نہ چھوڑا۔

اسی دوران چین نے دنیا کے جدید ترین موسمیاتی سیٹلائٹ میں شامل فینگ یون-4 کو متحرک کیا، جس کے ذریعے متاثرہ علاقے کی انتہائی قلیل وقفوں سے مسلسل نگرانی کی گئی۔ اس نے آفت زدہ علاقے کے موسم کی نگرانی اور سرحد پار خطرات کے جائزے کے لیے اہم تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی پیشگی انتباہی نظام”مازو”کو نیپال کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا، جس کے ذریعے مسلسل سیٹلائٹ نگرانی کا ڈیٹا نیپال کو فراہم کیا جاتا رہا۔بھرپور ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن کے ساتھ ساتھ چینی حکومت نے کھلے پن اور شفافیت کے ساتھ عالمی تشویش کا جواب دیا۔ اس امدادی مہم کی تمام معلومات مسلسل عوامی اور شفاف رہیں۔ 5 اور 6 ستمبر کو ریاستی کونسل کا انفارمیشن آفس وزارتِ خارجہ کے تعاون سے ایسو سی ایٹد پریس آف پاکستان ، امریکی میڈیا ادارے سی این این، رائٹرز، پریس ٹرسٹ آف انڈیا اور دیگر 10 سے زائد ممالک و خطوں کے غیر ملکی صحافیوں کو رپورٹنگ کے لئےگیرونگ کے آفت زدہ مقام پر لے گیا اور انہیں چین کی سرکاری اور غیر ملکی میڈیا بریفنگ میں شرکت کروائی اور تمام ہلاکتوں، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور امدادی اقدامات کی تازہ ترین صورتحال براہِ راست جاری کی گئی۔

غیر ملکی لاپتا افراد کے لیے چین نے فوری طور پر سفارتی ذرائع سے متعلقہ سفارت خانوں کو آگاہ کیا، غیر ملکیوں کے خاندانوں کے لیے 24 گھنٹے کی ہاٹ لائن قائم کی اور کل 509 بار خاندانوں کی کالز وصول کیں۔اس کوریج میں شریک پاکستانی صحافی محمد اصغر نے سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کرتے ہوئے چینی حکومت کی منظم امدادی کارروائیوں کی صلاحیت کو بھرپور سراہا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے صحافی نے کہا: "امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، ان کی کوششیں دل کو چھو لینے والی ہیں۔”مختلف ممالک کے میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی یہ غیر جانب دارانہ اور براہِ راست رپورٹس اس امر کا ثبوت بنیں کہ گیرونگ میں ہونے والی امدادی کارروائی کو محض یک طرفہ بیانیوں کے ذریعے نہیں، بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان رپورٹس سے دنیا نے چین کے حقیقی، جامع اور غیر معمولی ریسکیو آپریشن کے بارےمیں جانا ۔اپنے ملک میں آفت سے نمٹنے کے ساتھ چین نے نیپال کی بھی مدد کی۔ ہنگامی امدادی سامان کی تین کھیپ اب تک بھیجی جا چکی ہیں ، فورینسک ماہرین اور ٹنل ریسکیو کے ماہرین نیپال روانہ کیے گئے ، 1720 نیپالی سرحدی باشندوں کی بنیادی ضروریات کا انتظام کیا گیا ، اور روزانہ آبی و موسمیاتی معلومات کے اشتراک کا نظام قائم کیا گیا۔

چینی اور غیر ملکی صحافیوں کی بریفنگ میں چینی ماہرین نے سرحد پار آفات میں نگرانی کے خلا کا بھی کھل کر ذکر کیا اور ہمالیائی خطے کے ممالک کے درمیان دریائی ڈیٹا کے تبادلے اور مشترکہ سرحد پار انتباہی چینل بنانے کا خاکہ پیش کیا، تاکہ اس آفت کے بعد امدادی سرگرمیوں کو اس حوالے سے مستقبل کی پیشگی تیاری کے تعاون تک بڑھایا جا سکے۔گیرونگ کا یہ بڑا ریسکیو آپریشن دراصل قدرتی آفات میں زندگی اور موت کی ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ اس آپریشن کے ذریعے چین نے دنیا کے سامنے قدرتی آفات سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی و تکنیکی قوت، کھلے پن اور انسان دوستی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔اس آفت کے دن ہی چین کے صدر ملکت شی جن پھنگ نے امدادی کاموں کے بارے میں اہم ہدایات جاری کیں ۔ ریاستی کونسل کے نائب وزیر اعظم ژانگ گوو چھنگ کی قیادت میں ریاستی کونسل کی ورکنگ ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ۔ اگلے ہی روز ریاستی کونسل کے وزیر اعظم لی چھیانگ شیگاتسے ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد براہِ راست متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہوئے اور امدادی کارروائیوں کا معائنہ کیا ۔اعلیٰ ترین قیادت کی ہدایات سے لے کر اگلی صف میں موجود امدادی کمانڈ تک، صرف 48 گھنٹوں میں ردعمل کا پورا نظام پوری رفتار سے متحرک ہو گیا۔ 5 ستمبر تک مجموعی طور پر 2500 سے زائد امدادی اہلکار، 500 سے زیادہ گاڑیاں، 9000 سے زائد پیشہ ورانہ آلات و مشینری امدادی کارروائیوں کا حصہ تھی ۔

ہیلی کاپٹروں کی 24 پروازوں کے ذریعے اہلکاروں اور امدادی سامان کو پہنچایا گیا ، جبکہ 1000 سے زائد ڈرونز پروازوں نے مجموعی طور پر 5.43 ٹن امدادی سامان فضائی راستے سے پہنچایا ۔ایک بڑے گلیشیئر کے ٹوٹنے کے مقابل یہ محض ایک امدادی کارروائی نہیں تھی، بلکہ زندگی کو موت کے شکنجے سے نکالنے کے لیے ایک ملک کی جانب سے کی جانے والی انتہائی سطح کی جدوجہد تھی۔امدادی کارروائی کی شدت سے لے کر فینگ یون سیٹلائٹ کی غیر معمولی درستگی تک، متاثرین کی دیکھ بھال میں دکھائی دینے والی انسان دوستی سے لے کر غیر ملکی میڈیا کو جائے وقوعہ پر مدعو کرنے کی شفافیت تک ،جب کوئی قدرتی آفت اپنے مرکز سے سرحد پار کرکے تباہی مچاتی ہے تو ایک ملک جدید ترین سازوسامان، انتہائی دقیق سیٹلائٹ ڈیٹا اور معلومات کے سب سے کھلے نظام کو بیک وقت چار ہزار میٹر بلند پہاڑی وادی میں لا کر بروئے کار کیسے لاتا ہے، گیرونگ کا یہ ریسکیو آپریشن اس کی ایک طاقتور مثال ہے۔یہ خود اس بات کا اعلان ہے کہ تباہی کے سامنے انسان جھکنے والا نہیں۔ یہ انسانیت پر یقین کا ایک عملی جواب ہے کہ ز ندگی سب سے مقدم ہے، اور اس کی کوئی سرحد نہیں۔انتہائی نازک لمحے میں پوری قوت سے کوشش کرنا ہی انسان کا فرض ہے اور جب انسان اپنی پوری استطاعت کے باوجود بھی کسی زندگی کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے، تو یہ اطمینان ضرور رہتا ہے کہ اس نے اپنی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

Comments (0)
Add Comment