چین-کرغزستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے دورے پر آئے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ کے ساتھ بشکیک کے ہارمونی پیلس میں بات چیت کی۔ دورے کے دوران دونوں سربراہانِ مملکت نے مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان "نئے دور میں جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے مشترکہ اعلامیہ” اور "مستقل خوشگوار ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ فریقین نے سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق 20 سے زائد دستاویزات پر دستخط کیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہانِ مملکت نے ہنگامہ خیز عالمی حالات میں امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا ہے۔

سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ 34 برسوں کے دوران چین اور کرغزستان کے تعلقات نے بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے خوشگوار ہمسائیگی سے تزویراتی شراکت داری اور پھر نئے دور میں جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک تاریخی پیش رفت کی ہے۔ ایسے میں ایک نئے تاریخی نقطۂ آغاز پر کھڑے ہو کر چین-کرغزستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مزید آگے کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟اعلیٰ سطحی سیاسی باہمی اعتماد اور مضبوط باہمی حمایت اہم ضمانت فراہم کرتی ہیں، جبکہ باہمی فائدہ مند تعاون چین-کرغزستان ہم نصیب معاشرے کی ٹھوس اور مستحکم ترقی کے لیے اہم محرک ہے۔ ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد عوام کے درمیان دوستی میں مضمر ہوتی ہے۔

اس دورے کے دوران چین نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور افرادی تبادلوں کو مزید فروغ دیا جائے اور نوجوانوں، میڈیا، سیاحت، کھیل، صحتِ عامہ اور مقامی سطح پر تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تبادلوں کو آگے بڑھایا جائے، تاکہ چین اور کرغزستان کے درمیان پائیدار دوستی کے لیے سماجی اور عوامی حمایت کی بنیاد مزید مضبوط ہو۔کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ چار گلوبل انیشی ایٹوز مختلف ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور زیادہ منصفانہ اور مستحکم بین الاقوامی نظم و نسق کے قیام میں مدد فراہم کریں گے۔ چین اور کرغزستان یقیناً عملی تعاون کے مزید ثمرات حاصل کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کریں گے۔

Comments (0)
Add Comment