P(doom) کی بحث: چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ادراکی فرق، مشترکہ اتفاقِ رائے، اور عالمی حکمرانی کا راستہ

سان فرانسسکو کی کچھ نشستوں میں، کسی سے اس کا "P(doom)” پوچھنا تقریباً اتنا ہی عام ہو گیا ہے جتنا کسی کا سیاسی نظریہ پوچھنا۔ یہ سوال فوراً آدمی کے فکری رجحان، عالمی نظریے اور حلقہ احباب کا اندازہ دے دیتا ہے۔”P(doom)” اصل میں "probability of doom” یعنی قیامت کے احتمال کا مخفف ہے، اور اس سے مراد کسی شخص کا یہ ذاتی اندازہ ہے کہ اے آئی آخر کار انسانیت کے خاتمے یا تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا یا نہیں۔ جب پوری ٹیکنالوجی کی صنعت مصنوعی ذہانت کو مزید طاقتور، تیز اور مہنگے مستقبل کی طرف لے جانے میں مصروف ہے، تو سلیکون ویلی کے اندر "قیامت کے احتمال” پر ہونے والی یہ بحث گہری توجہ کی متقاضی ہے۔

یہ دراصل انسان کے سپر ذہانت کے دور میں داخل ہونے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فلسفیانہ، اخلاقی اور تہذیبی غوروفکر ہے۔جب مصنوعی ذہانت پہلی بار انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو انسان کو ذہانت کی ماہیت، اپنی شناخت اور ٹیکنالوجی و تہذیب کے درمیان موجود حدود کو ازسرِنو متعین کرنا ہوگا۔ سلیکون ویلی کے بڑے کھلاڑیوں کی جانب سے دیے جانے والے جوابات صفر سے لے کر 99.9 فیصد تک مختلف ہیں۔ یہ اختلاف کسی درست سائنسی حساب یا فیصلے سے زیادہ، دراصل ٹیکنالوجی کی فطرت، انسانی صلاحیت، ادارہ جاتی پابندیوں اور بڑی طاقتوں کی کشمکش کے بارے میں عالمی سطح کے پیشہ ور افراد کے بنیادی تصورات کا فرق ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ ترین اے آئی پیشہ ور افراد اور پالیسی ساز حلقے وسیع پیمانے پر ایک پختہ بنیادی اتفاقِ رائے رکھتے ہیں۔ دونوں فریق سپر ذہانت کے ممکنہ تہذیبی خطرات کو تسلیم کرتے ہیں، ماڈل کی ایمرجینس، ہدف کی منحرفی جیسے اعلیٰ درجے کے خطرات کے امکانات کو مانتے ہیں، دونوں ملکوں کو اے آئی کی بے قابو دوڑ کے ممکنہ مہلک نقصانات کا گہرا احساس ہے اور دونوں اس اصول سے بھی متفق ہیں کہ حکمرانی کو ٹیکنالوجی کی ترقی سے آگے رکھا جائے اور سپر ٹیکنالوجی کے سامنے آنے سے بہت پہلے اس کے لیے مکمل ضابطۂ کار طے کیا جائے۔

دونوں ملکوں کے اے آئی ترقی کے راستے میں بنیادی اختلاف خطرے کو ماننے یا نہ ماننے میں نہیں، بلکہ خطرے کی ترجیح، ٹیکنالوجی کی حیثیت، اور حکمرانی کے منطق کے فرق میں ہے، جس نے دو بالکل مختلف صنعتی بیانیے کے نظام بنائے ہیں۔سلیکون ویلی میں P(doom) کی بحث انتہائی اور فلسفیانہ نوعیت کی ہے، جو دور رس، تباہ کن تہذیبی خطرات پر مرکوز ہے۔ "بحران پسند”، "تیزی پسند” اور "ہم آہنگی پسند” تینوں دھاروں کی بحث اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ کیا سپر ذہانت ایک آزاد ذہین وجود بن جائے گی اور کیا اس میں خود کو پھیلانے اور طاقت حاصل کرنے کا فطری رجحان پیدا ہوگا۔یہ تفکر صنعتی معاشی پیمانے سے آگے بڑھ کر انسان کی اپنی تخلیق، اور انسانی بقاء کے حق پر ایک حتمی سوال ہے۔ یہ اے آئی کی ترقی کی تہذیبی حدود کے تحفظ پر زور دیتا ہے اور انسان کو تکنیکی دوڑ کے سامنے ہمیشہ محتاط اور چوکس رہنے پر مجبور کرتا ہے لیکن اس کی خامی بھی واضح ہے۔ حکمرانی اشرافیہ کی بحث، کمپنیوں کی خود احتسابی، اور عوامی رائے کے توازن پر منحصر ہے، اس میں سخت پابندیوں کا فقدان ہے، اور یہ سرمائے کے منافع اور صنعتی اندرونی دوڑ کی روایت کے خلاف نہیں ٹھہر سکتا اور آخرکار یہ”خطرے کے اعتراف کا ساختی تضاد بن جاتا ہے جس کی دوڑ جاری ہے۔

چین کی طرف دیکھیں تو چین حالیہ دور کے سپر ذہانت کے خطرے کو بھی مانتاہے، اس کے ساتھ ہی، چین کا اے آئی صنعت اور پالیسی نظام حقیقت پسندی، سماجی اور صنعتی نقطۂ نظر پر کھڑا ہے، اور ہمیشہ زیادہ احتمال والے، مخصوص حقیقی بحرانوں کو ترجیح دیتا ہے جن میں روزگار کا بحران، پرائیویسی لیک ہونا ، الگورتھم کا ناجائز استعمال، توانائی کی کھپت، صنعتی سلامتی، اور عوامی حکمرانی کے خطرات شامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کے حکمرانی کے ماڈل میں عملی معقولیت کو اہمیت حاصل ہے۔ اس کا مرکزی فائدہ یہ ہے کہ یہ محض اشرافیہ کی خود آگاہی کے بجائے مضبوط ادارہ جاتی نظام کو سامنے لاتا ہے۔ چین پالیسی کو ترجیح دینے، قوانین کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے اور مختلف سطحوں پر کنٹرول کے راستے پر قائم ہے۔ قانون، سلامتی کے جائزوں اور صنعتی ریڈ لائنوں کے ذریعے ایک منظم پابندی کا نظام تشکیل دیا جاتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ سرمائے کا منافع عوامی سلامتی پر حاوی نہ ہو۔ یہ ماڈل زمینی حقائق سے جڑا ہوا، سماجی طور پر روادار اور صنعت کو مستحکم رکھنے اور جدت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی اور سلامتی کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی ماڈل کی کمزوری یہ ہے کہ سرمائے کا دباؤ اور مارکیٹ کا مقابلہ اخلاقی حدود کو آسانی سے توڑ سکتا ہے۔

میرے خیال میں دونوں سوچوں کے اپنے فائدے ہیں،اور یہ ایک دوسرے کی مخالفت نہیں بلکہ تکمیل کرتے ہیں۔ سلیکون ویلی کا فلسفیانہ تفکر اس بات پر زور دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی اپنے اصل مقصد اور منزل سے نہ بھٹکے، جبکہ چین کا ادارہ جاتی حکمرانی کا نظام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی پرامن انداز میں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔ مستقبل کی عالمی اے آئی حکمرانی کو دونوں سوچوں اور ماڈلز کی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ مغربی طرز کے مستقبل کو دیکھنے والے تفکر سے دور کے خطرے کی پیش گوئی کریں، اور چینی طرز کے ادارہ جاتی نفاذ سے حقیقی ترقی کو ضابطے میں لائیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آنے والی چین امریکہ سربراہ ملاقات میں اے آئی صنعت کی ترقی اور عالمی حکمرانی کو مرکزی موضوع بنایا جائے۔ یہ اشارہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اے آئی اب محض کمپنیوں کا مقابلہ یا ٹیکنالوجی کی دوڑ کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ چین امریکہ تعلقات کے استحکام، عالمی صنعتی خاکے، اور انسانی تہذیب کے رخ سے متعلق ایک عالمی مرکزی موضوع ہے۔ دنیا کی پہلی دو بڑی اے آئی معیشتوں کے طور پر، چین اور امریکہ کی اے آئی ترقی کی رفتار، قواعد کے معیار، خطرے کے کنٹرول، اور مقابلے کی حدود پر ادراک براہِ راست عالمی اے آئی کے مستقبل کا رخ طے کرتا ہے۔

لوگ امید کرتے ہیں کہ چین اور امریکہ کے سربراہ اعلیٰ اسٹریٹجک رابطے کے ذریعے ادراکی اختلاف کم کریں، باہمی اعتماد کا نظام قائم کریں، مقابلے کی ریڈ لائنز طے کریں، اور حکمرانی کا مشترکہ اتفاق قائم کریں تاکہ اے آئی کی بےقابو دوڑ کو روکا جا سکے۔مستقبل کے خطرات کا تفکر قابلِ جانچ اور قابلِ عمل عالمی قواعد میں ڈھل جائے، اور آخر کار اے آئی قیامت کے احتمال اور ترقی کی غیر یقینی کے اضطراب سے آزاد ہو کر واقعی پوری انسانیت کی خدمت گار، اور عالمی ترقی کو طاقت بخشنے والی سب کے لیے فائدہ مند ٹیکنالوجی بن جائے، جو انسانی تہذیب کے تسلسل اور ترقی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔

Comments (0)
Add Comment