چین کے میزائل تجربے پر تنقید سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، چینی وزارت خارجہ

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی وزارت خارجہ کی باقاعدہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ جنیوا میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے اجلاس کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں ایک متعلقہ ملک کے حالیہ میزائل تجربے پر تنقید کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ بحرالکاہل کی جانب کیے گئے اس میزائل تجربے سے قبل مقررہ طریقہ کار کے مطابق پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جس سے غلط فہمی کا خطرہ بڑھتا ہے اور علاقائی استحکام متاثر ہوتا ہے۔

مشترکہ بیان میں متعلقہ ملک پر زور دیا گیا کہ وہ "بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ہیگ ضابطۂ اخلاق ” پر عمل کرے۔صحافی نے سوال کیا کہ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ  مشترکہ بیان میں چین کی جانب سے رواں سال جولائی میں کیے گئے آبدوز سے داغے جانے والے اسٹریٹجک میزائل کے تجربے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں چین کا کیا موقف ہے؟ جمعرات کے روز چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک نے جنیوا میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے پلیٹ فارم پر نام نہاد مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے "بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ہیگ ضابطۂ اخلاق ” کو جواز بنایا اور چین کے میزائل تجربے کی جانب اشارہ کیا۔

یہ اقدام مکمل طور پر سیاسی مقاصد پر مبنی ہے اور اس سے متعلقہ ممالک کی منافقت اور "دوہرے معیار” کی روش واضح طور پر بے نقاب ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین متعلقہ ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کثیرالجہتی اسلحہ کنٹرول کے نظام کا غلط استعمال بند کریں، بلاجواز محاذ آرائی کے بجائے خلوص کے ساتھ بات چیت کو فروغ دیں اور اسلحہ کنٹرول کے شعبے میں مکالمے اور تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری سازگار حالات پیدا کریں۔

Comments (0)
Add Comment