عوام کو اولین ترجیح دینا، جدیدیت کا چینی تصور ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (ویب ڈیسک)2012میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد، سی پی سی کی مرکزی قیادت نے "عوام کو اولین ترجیح دینا” کے تصور کو نئے دور میں شی جن پھنگ کے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کے نظریے کی بنیادی اساس قرار دیا۔نئے دور میں چین کے نظامِ حکمرانی میں "عوام کو اولین ترجیح دینا” تمام شعبوں میں ایک مضبوط پیمانہ ہے: عوامی فلاح کے شعبے میں اس کی جھلک تقریباً دس کروڑ دیہی غریب افراد کو غربت سے نکالنے کی تاریخی کامیابی، اور دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی، طبی اور سماجی تحفظ کے نظام کے قیام میں نظر آتی ہے۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے شعبے میں "زندگی سب سے مقدم” کے اصول کو اولین ترجیح دی گئی ہے، جبکہ اصلاحات کے میدان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کروڑوں عوام کی اپنی جدوجہد ہے۔اختیارات کے استعمال کے حوالے سے عوام کی فلاح و بہبود کو سب سے بڑی کارکردگی اور عوامی اطمینان کو اعلیٰ ترین معیار قرار دیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایسا نگرانی کا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس میں عوام ہر مرحلے پر شریک رہتے ہیں، تاکہ ریاستی اختیارات ہمیشہ عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے استعمال ہوں۔

"عوام کو اولین ترجیح دینا” عالمی نظم و نسق کے لیے ایک نیا امکان پیش کرتا ہے۔یہ اس خیال کو چیلنج کرتا ہے کہ جدیدیت کے لیے لازماً مغربی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی ملک سرمایہ کو اولین ترجیح دینے کے بجائے عوام کے وسیع تر مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے بھی ایسی جدیدیت کی راہ اختیار کر سکتا ہے جس میں ترقی اور سماجی انصاف دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔ یہ تصور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک انتہائی قابلِ تقلید فارمولہ فراہم کرتا ہے اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی نظام کی تشکیل کے لیے چینی حل پیش کرتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment