بیجنگ (ویب ڈیسک)10 جولائی 2026ء کو اسلام آباد، پاکستان کے ایچ-9 بازار میں اچانک آگ لگ گئی۔ اس آتش زدگی نے مقامی تجارتی منڈیوں میں پائی جانے والی طویل عرصے کی متعدد آتش زدگی سے متعلق خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔ آتش زدگی کے بعد سامنے آنے والی صورتحال میں معلوم ہوا کہ تاجروں نے اپنی دکانوں میں کپڑے، پلاسٹک اور دیگر آتش گیر مال کی حد سے زیادہ ذخیرہ اندوزی کر رکھی تھی۔ غیر شفاف سب لیزنگ کے باعث حفاظتی ذمہ داریاں واضح نہیں تھیں، جبکہ بازار میں معیاری فائر کنٹرول روم، جدید آگ بجھانے والے آلات، فائر پروف انتظامات اور ہنگامی راستوں کا مناسب نظام موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سکیورٹی عملے کو آگ سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت نہ ہونے کے باعث ابتدائی ردعمل اور بحالی کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔چھوٹے سامان کی تجارت پاکستان کی عوامی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، لیکن تجارتی مراکز میں حفاظتی کمزوریاں کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
چین کے صوبہ زے جیانگ کا شہر ای وو، جو دنیا کے سب سے بڑے چھوٹے سامان کے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، وہاں کئی برسوں کی کوششوں کے بعد ایک جامع اور مؤثر فائر سیفٹی نظام قائم کیا گیاہے۔ اس کے معیاری کنٹرول، اسمارٹ سکیورٹی سسٹم اور باقاعدہ انتظام کے تجربات، پاکستان کے تجارتی مراکز میں آتش زدگی کی روک تھام کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ تقلید تجربات فراہم کر سکتے ہیں۔پاکستانی تاجروں کے لیے "ای وو” کا نام نیا نہیں۔ چاہے لاہور ہو، کراچی یا اسلام آباد، ہر جگہ ای وو سے آنے والا سامان نظر آتا ہے۔روزمرہ استعمال کی اشیاء سے لے کر تہواروں کی سجاوٹ تک، ہارڈویئر کے پرزوں سے لے کر الیکٹرانک کھلونوں تک، بہت سے پاکستانی تاجر برسوں سے ای وو میں کاروبار کر رہے ہیں اور یہاں کے بین الاقوامی تجارتی مراکز سے وابستہ ہیں۔ ای وو صرف چین کی "عالمی سپر مارکیٹ” ہی نہیں بلکہ کئی پاکستانی تاجروں کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز اور دوسرا گھر بھی ہے۔
تاہم، اس پُرسکون نظر آنے والے تجارتی شہر کے پیچھے کبھی بہت بڑے حفاظتی چیلنجز موجود تھے۔ محدود زمینی وسائل، گنجان آباد کاروباری مراکز، بڑی تعداد میں فیکٹریاں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث آگ لگنے، صنعتی حادثات اور برقی خطرات جیسے مسائل درپیش تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سنہ 2006ء کے مقابلے میں جی ڈی پی میں 657.4 فیصد اضافے کے باوجود، ای وو میں پیداواری حادثات اور اموات کی شرح میں بالترتیب 97.8 فیصد اور 93.5 فیصد کمی آئی ہے، اور گزشتہ نو برسوں سے آتش زدگی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان متضاد اعداد و شمار کے پیچھے ای وو کی حکومت کا ایک اہم حکمرانی فلسفہ کارفرما ہے: "حفاظت بوجھ نہیں، سرمایہ کاری ہے؛ یہ لاگت نہیں، مسابقتی صلاحیت ہے۔”سب سے پہلے، ای وو نے حفاظتی نظام کو شہر کی ترقی کے پورے عمل میں ضم کیا۔ ای وو میں زمینی وسائل محدود ہیں، جس کے باعث بہت سی کمپنیاں بلند و بالا فیکٹری عمارتوں میں منتقل ہو گئی ہیں، جہاں ایک ہی عمارت میں متعدد کاروباری ادارے کام کرتے ہیں۔ ای وو نے قانونی پابندیوں، معیاری ہارڈ ویئر اور اسمارٹ فائر سیفٹی نظام کے ذریعے خطرات کو قابو میں رکھا ہے۔
مثال کے طور پر، نئی تعمیر ہونے والی بلند عمارتوں میں لازمی طور پر دو ہنگامی اخراجی راستے، کاروباری یونٹس کے درمیان فائر پروف دیواریں اور جدید نگرانی کے نظام قائم کیے گئےہیں، اور تھرڈ پارٹی اسمارٹ فائر سیفٹی پلیٹ فارم متعارف کروا کر چھوٹے کاروباروں کو انتہائی کم لاگت پر اسمارٹ سکیورٹی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ "حکومتی رہنمائی، مارکیٹ کے ذریعے آپریشن، اور کاروباری اداروں کی شراکت” کے اس ماڈل نے نہ صرف حفاظتی معیارات کو آسان بنایا بلکہ مجموعی تحفظ کی سطح کو بھی بلند کیا ہے۔ای وو کا بین الاقوامی تجارتی مرکز بھی کبھی برقی آتش زدگی کے خطرات سے دوچار تھا۔ جہاں تاجر غیر قانونی طور پر تار کشی کرتے اور بجلی کے بوجھ سے تجاوز کرکے بجلی کا استعمال کرتے تھے۔ مارکیٹ انتظامیہ نے 30 ملین یوآن سے زائد کی لاگت سے ہر دکان میں اسمارٹ میٹر نصب کیے، جو کرنٹ، وولٹیج اور درجہ حرارت کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں بجلی خودکار طریقے سے منقطع ہو جاتی ہے اور خطرے کی اطلاع انتظامیہ کو فوراً پہنچ جاتی ہے۔
اس نظام نے آگ لگنےکے امکانات کو بھی جڑ سے ختم کیا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ دھواں محسوس کرنے والے آلات، پانی کے چھڑکاؤ کے نظام، آگ سے بچاؤ کے پردوں اور چھوٹے فائر اسٹیشنز نے یقینی بنایا ہے کہ "ہر دکان کی نگرانی ہو اور ہر سیکشن میں امدادی ٹیم موجود ہو۔” دوسرا اہم پہلو ای وو کا "135 فوری ردعمل میکانزم” ہے۔ایک منٹ میں اطلاع، تین منٹ میں روانگی، اور پانچ منٹ میں مقام پر پہنچنا، اس سے امدادی کارروائی کو "آگ بھڑکنے سے پہلے موقع پر پہنچنا ممکن بنا دیتا ہے۔ شہر بھر میں تین درجات پر قائم امدادی مراکز اور ڈیجیٹل کمانڈ پلیٹ فارم کے ذریعے یکساں انداز میں رسپانس کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ چھوٹی آگ کو ابتداء میں ہی بجھایا جا سکے اور بڑی آگ پر ابتدائی مراحل میں قابو پایا جا سکے۔ یہ مؤثر نظام نقصان کو نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔سب سے قابلِ تقلید پہلو یہ ہے کہ ای وو نے حفاظتی نگرانی کو محض "سزا دینے” کا عمل نہیں بنایا، بلکہ ترغیبات اور پابندیوں کو یکجا کیا ہے ۔ تجارتی سینٹر اور لاجسٹک پارکس میں حفاظتی پوائنٹس اور رینکنگ سسٹم رائج ہے، جس کی خلاف ورزی پر پوائنٹس کٹتے ہیں جو کرایے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ معیارات کی پابندی پر رعایت ملتی ہے۔
بلند رینکنگ والوں کو کرایے میں چھوٹ جبکہ نچلی سطح پر آنے والوں کو اضافی فیس دینی پڑتی ہے۔ ساتھ ہی، حکومتی اہلکار دکانوں پر جا کر چیکنگ کرتے ہیں ، خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور معیارات کو واضح کرتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے ای وو کا ایک مربوط نظام کارفرما ہے جس میں پارٹی، حکومت، متعلقہ محکمے اور مقامی سطح کی ہم آہنگی شامل ہے۔ شہر بھر میں نو اہم شعبوں کے لیے مخصوص کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، 1936 گرڈ اہلکار اور 18,000 سے زائد کاروباری سیفٹی آفیسرز پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، اس کے علاوہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم 42 محکموں کے ڈیٹا کو آپس میں مربوط کر کے خطرات کی رپورٹنگ، ہدایات، حل، جانچ اور تشخیص کا مکمل آن لائن نظام فراہم کرتا ہے۔پاکستان کے لیے ای وو کا تجربہ ایک واضح پیغام ہے کہ حفاظتی نظام معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی مضبوط بنیاد ہے۔ چاہے کراچی کی بندرگاہوں کے گودام ہوں، لاہور کے صنعتی علاقے ہوں یا اسلام آباد کے بازار، ہر جگہ ای وو سے یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ حفاظت میں فعال سرمایہ کاری بوجھ نہیں، بلکہ منافع بخش سرمایہ کاری ہے۔ اس سرمایہ کاری کا ثمر عوام کی سلامتی اور خوشحالی کی صورت میں ملتا ہے، اور یہ شہروں اور صنعتوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔