بیجنگ (ویب ڈیسک) آج کی دنیا میں چین کو سمجھنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کو سمجھنا لازمی ہے۔ یکم جولائی 2026 کو سی پی سی اپنی ایک سو پانچویں سالگرہ منا رہی ہے۔ اس پارٹی کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور اس کی منزل کیا ہے ؟اس سیاسی جماعت کے تمام آزمائشوں پر پورا اترکر آگے بڑھنے کےپیچھے کیا قوت ہے ؟ اس کا جواب، چائنا نیشنل انوویشن اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹریٹجی ریسرچ ایسوسی ایشن کے بانی جناب زینگ بی جیئن کی کتاب "چینی تہذیب اورسی پی سی” میں ملتا ہے۔
اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ایک صدی سے دو عالمی آزمائشوں سے گزری ہے۔ پہلا امتحان قوم کو بچانے اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کو مکمل کرنا تھا جبکہ دوسرا امتحان پرامن ماحول میں ترقی کی مشکلات سےشروع ہوا جوکہ ایک نیا چیلنج ہے۔ اسی پارٹی سے 1978 میں چین میں اصلاحات اور کھلے پن کا آغاز ہوا اور سی پی سی نے قوم کی قیادت کرتے ہوئے ملک کو "خوشحال” بنا کر”طاقتورہونے” کی جانب گامزن کیا۔ اس کتاب کے مطابق سی پی سی کی کامیابی کے تین بنیادی تاریخی تجربات ہیں۔
پہلا، روایتی چینی تہذیب کو آگے لے جانے کو اہمیت دینا۔ دوسرا، مارکسزم پر چین کے قومی حالات کے مطابق عمل کرنا اور تیسرا، حقائق، عوام پر انحصاراور آزادی اور خود انحصاری پر قائم رہنا ہے۔ سی پی سی تہہ دل سے عوام کی خدمت کو اپنا بنیادی مقصد سمجھتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے طویل مدتی اہداف اس کے ترقیاتی بلیو پرنٹ میں واضح ہیں، یعنی 2035 تک ملک کی سوشلسٹ جدیدیت کو بنیادی طور پر عملی جامہ پہنانا، اور 2049 تک یعنی عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر ایک جدید اور طاقتور ملک کی تعمیر کو مکمل کرنا ۔
چین جدیدیت کی راہ پر بڑی طاقتوں کے توسیع پسندی کے روایتی پرانے راستے پر کبھی گامزن نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے، چین تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ ترقی برقرار رکھے گا۔