بیجنگ (ویب ڈیسک) جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے 23 ویں شنگریلا ڈائیلاگ میں کہا کہ جاپان علاقائی دفاع میں "نیا کردار” سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور علاقائی سلامتی کے تعاون کو بڑھانا جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے متعدد بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ جاپان کے اقدامات سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور ہتھیاروں کی دوڑ اور تنازعے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
کمبوڈیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ نگورن تائی نے کہا کہ ایشیائی ممالک کو جاپانی عسکریت پسندی کی تاریخ اچھی طرح یاد ہے، اور "خطے کے ممالک کو یہ شبہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ آیا جاپان کی نئی سیکورٹی پوزیشن واقعی دفاعی ضروریات کے مطابق ہے، یا پھر وہ دوبارہ طاقت کے اظہار اور اثرورسوخ کے پرانے راستے پر گامزن ہونا چاہتا ہے” ۔ انڈونیشیا کے تھنک ٹینک پارا سنڈیکیٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وردھیکا اوتاما کا خیال ہے کہ جاپان کی جانب سے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل توسیع ، بشمول ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور نام نہاد "جوابی صلاحیتوں” کی ترقی، نے خطے کے ممالک میں تشویش کو جنم دیا ہے۔
"یہ اقدام تاریخی تناؤ کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں اور ایشیا پیسفک خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔” سنگاپور میں آئی ایس ایچ اے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایسٹ ایشین اسٹڈیز کے آسیان اسٹڈیز سینٹر کے مشیرچوئی شنگ کوک نے کہا کہ جاپان بتدریج دفاعی بجٹ اور دفاعی صنعت کی سرگرمیوں پر پابندیوں میں نرمی کر رہا ہے، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ جاپان بتدریج جنگ کے بعد کے پُرامن ترقی کے راستے سے ہٹ کرعسکریت پسندی کے راستے پر دوبارہ گامزن ہو سکتا ہے۔