چین، محدود وسائل کو خیرباد، پائیدار مستقبل کی جانب سفر: نئی توانائی کا عہد ساز جواب

بیجنگ (ویب ڈیسک)چند روز قبل ، ہم اپنی نیو انرجی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مضافاتی علاقے کی جانب گئے۔ جب گاڑی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی تو ڈیش بورڈ پر باقی ماندہ بیٹری رینج 200 کلومیٹر سے زائد دکھا رہی تھی، مگر جیسے ہی ہم نیچے اترے تو حیرت انگیز طور پر رینج کم ہونے کے بجائے بڑھ کر 300 کلومیٹر سے زیادہ ہو گئی۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ نیو انرجی گاڑیوں کی کشش محض پیسے یا ایندھن کی بچت تک محدود نہیں۔نیو انرجی گاڑیوں کے بارے میں میرا رویہ بھی ابتدا میں دوسروں کی طرح محتاط اور شکوک سے بھرا ہوا تھا۔ خدشہ تھا کہ رینج کم ہوگی، مرمت مہنگی پڑے گی، اور سردیوں میں بیٹری جلد ختم ہو جائے گی۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں۔ حتیٰ کہ دور دراز قصبوں میں بھی چارجنگ سہولیات دستیاب ہیں، اور میں نے خود بھی چومولانگما چوٹی کی پہاڑی سڑک پر دوردراز علاقے سے چل کر آنے والی نیو انرجی گاڑی دیکھی ہے۔

اگر ہم ایک مختصر جائزہ لیں،تو نیو انرجی گاڑیوں کی تیز رفتار ترقی حیران کن ہے۔ 2014 میں ، چین میں پہلی بار نجی سطح پر نیو انرجی گاڑیاں خریدی جانے لگیں، جبکہ 2025 تک ان کی مارکیٹ میں رسائی کی شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ نہ صرف چین میں زیادہ سے زیادہ صارفین نیو انرجی گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں، بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی نیو انرجی گاڑیوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے،خاص کر ایسے وقت میں جب بین الاقوامی صورتحال غیر مستحکم ہے اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے چینی الیکٹرک گاڑیوں کی بیرونِ ملک مانگ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، اور فروخت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں یورپی مارکیٹ میں چینی برانڈز کی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 94 فیصد اضافہ ہوا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بی وائی ڈی اور ایم جی جیسے چینی برانڈز جرمنی، فرانس اور اٹلی سمیت یورپ کی بڑی منڈیوں میں فروخت کے لحاظ سے سرفہرست دس میں شامل ہو چکے ہیں۔

توانائی کی لاگت میں نمایاں فرق بہت سے صارفین کو روایتی ایندھن والی گاڑیوں سے دور لے جا رہا ہے، مگر یہ واحد وجہ نہیں۔ ایک ہی قیمت میں بہتر سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، اور خودکار ڈرائیونگ و پارکنگ جیسی ذہین خصوصیات صارفین کو تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب راغب کر رہی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق یورپی صارفین کا رجحان بھی تبدیل ہو رہا ہے ، جہاں پہلے چینی برانڈز کے بارے میں تذبذب تھا، اب وہ خود ان کا انتخاب کر رہے ہیں، اور یوں چینی الیکٹرک گاڑیاں یورپی مارکیٹ میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہیں۔نیو انرجی گاڑیوں کے میدان میں، چین کی برتری واضح ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں 77.5 فیصد اضافہ ہوا۔ چین کے پاس دنیا کی سب سے مکمل الیکٹرک گاڑیوں کی سپلائی چین ہے۔ بیٹری، الیکٹرک کنٹرول سسٹم سے لے کر گاڑی کے سمارٹ سسٹمز تک سب کچھ مقامی سطح پر تیار کیا جا رہا ہے۔یہی صلاحیت چینی کمپنیوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فوری ردعمل، پیداوار میں اضافہ اور مصنوعات کی تیز رفتار اپ گریڈنگ کو ممکن بناتی ہے اور ہمیشہ صنعت کے محاذ پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے قابل بناتی ہے۔

اس مسابقتی ماحول کے پیش نظر روایتی آٹو موبائل کمپنیوں نے بھی اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے ، تحقیق و ترقی میں اضافہ کیا ہے یا چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی بنیادی ٹیکنالوجی کو گہرائی سے استعمال کیا ہے۔ووکس ویگن گروپ نے اپنی برقی اور اسمارٹ گاڑیوں کی عالمی تحقیق و ترقی کا سب سے بڑا مرکز چین میں قائم کیا ہے، اور یہ جرمنی کے باہر اس کا واحد مرکز بھی ہے۔ مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور دیگر برانڈز نے بھی چین کے بڑے ماڈلز تک رسائی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ ذہین ڈرائیونگ کے شعبے میں تعاون کرتے ہوئے چین کو دنیا کا بنیادی تحقیق و ترقی مرکز بنایا ہے۔ نسان کی الیکٹرک سیڈان این سیون کی تخلیق میں چینی ٹیم نے رہنما کردار ادا کیا ہے۔ یہ مقامی نئی توانائی کی ساخت اور اسمارٹ ڈرائیونگ سسٹم سے لیس ہے، اور مارکیٹ میں آنے کے صرف 50 دن میں اس کے 20 ہزار سے زائد آرڈرز موصول ہوئے۔نیو انرجی گاڑیوں کی تیز رفتار ترقی چین میں اعلیٰ معیار کی ترقی کا ایک عکاس ہے۔مکمل صنعتی چین، تیز رفتار مارکیٹ ردعمل اور مسلسل جدت کے باعث یہ گاڑیاں نہ صرف اپنی ملکی مارکیٹ میں مقبول ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مضبوط مقام حاصل کر چکی ہیں۔

یہ تبدیلی نہ صرف صنعتی ترقی کا نتیجہ ہے بلکہ چین کے کھلے تعاون اور اعلی معیاری ترقیاتی پالیسی کا مظہر بھی ہے۔اب دوبارہ ابتدائی تجربے کی طرف آئیں: کیا کسی نے کبھی ایسی ایندھن والی گاڑی دیکھی ہے جس کی رینج سفر کے دوران کم ہونے کی بجائے بڑھ جائے؟ اصل فرق اس سے بھی گہرا ہے۔ روایتی ایندھن کروڑوں سال کے قدرتی عمل کا نتیجہ ہے، جو استعمال کے ساتھ ختم ہوتا جاتا ہے، جبکہ نئی توانائی نہ صرف ڈھلوان سے حاصل ہونے والی حرکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتی ہے بلکہ سولر، ونڈ، ہائیڈرو اور نیوکلئیر توانائی جیسے قابلِ تجدید ذرائع سے مسلسل حاصل کی جا سکتی ہے ،جو قابل تجدید اور پائیدار ہے۔وسیع تناظر میں ، جب انسانیت زیادہ سے زیادہ صاف اور پائیدار توانائی کی جانب بڑھے گی تو محدود وسائل پر ہونے والے تنازعات بھی کم ہو سکتے ہیں۔یہی دراصل نئی توانائی کا وہ عہد ساز جواب ہے جو ہمارے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment