بیجنگ (ویب ڈیسک) جاپانی حکومت کی "پلومیٹک بلیو بک 2026 ” میں چین کے ساتھ تعلقات کی درجہ بندی کو ” اہم ترین دو طرفہ تعلقات ” سے ایک درجہ کم کر کے "اہم ہمسایہ ملک ” قرار دے دیا گیا ہے، جسے چین اور جاپان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید سرد مہری کے اضافے کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی صارفین کے درمیان کیے گئے ایک سروے کے مطابق، 82 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ جاپان کے حالیہ بیانات اور اقدامات چین-جاپان تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہیں۔
90.8 فیصد افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ جاپانی حکومت فوری طور پر اپنے غلط بیانات واپس لے، اشتعال انگیز اقدامات بند کرے، اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی برادری کا اعتماد بحال کرے۔سروے کے مطابق 86.4 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ جاپان مکمل طور پر اپنے "دفاع تک محدود رہنے ” کے اصول سے ہٹ چکا ہے۔
89.1فیصد افراد نے جاپانی سیاستدانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین -جاپان چار سیاسی دستاویزات اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں ، اور تعلقات کی سیاسی بنیاد کو مضبوط بنائیں ۔86.7 فیصد جواب دہندگان کے مطابق، "عسکریت پسندی کا رجحان ” جاپان کے فوجی، سفارتی اور ثقافتی شعبوں میں سرائیت کر چکا ہے، اور دائیں بازو کی قوتیں ایک بار پھر جاپان کو ایک "جنگی ریاست ” کی طرف لے جا سکتی ہیں۔